ایجنسیز
واشنگٹن//امریکہ اور ہندوستان کے درمیان کاروبار بڑھانے کے موضوع پرمیراتھن مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔ امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریرنے قانون سازوں کو بتایا کہ ہندوستان نے امریکی زرعی مصنوعات جیسے جواراورسویا کے لیے بازار کھولنے پرایک ملک کے طور پر ہمیں اب تک کی بہترین پیشکش کی ہے۔ سینیٹ کی ایک کمیٹی کے سامنے بات کرتے ہوئے گریر نے کہا کہ ان کی ٹیم اس وقت نئی دہلی میں میٹنگوں میں مصروف ہے، جہاں وہ حساس زرعی مسائل پر تبادلہ خیال کر رہی ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ہندوستان کو کچھ فصلوں کے بارے میں تحفظات ہیں لیکن ہندوستان کی حالیہ پیشکش پہلے سے کہیں زیادہ مثبت ہے۔گریر نے کہا کہ چین سے مانگ میں کمی اور امریکی مصنوعات کے بڑھتے ہوئے اسٹاک کی صورت میں ہندوستان اب امریکہ کے لیے ایک بڑا متبادل بازار بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا بازار مواقع سے بھرا ہوا ہے لیکن اسے کھولنا ہمیشہ مشکل رہا ہے۔ کمیٹی کے چیئرمین جیری موران نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ امریکی کسانوں کے لیے برآمدی اختیارات کم ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان جیسے ممالک میں داخل ہونا آسان نہیں ہے۔ اس پرگریر نے جواب دیا کہ ہندوستان کے ساتھ مذاکرات میں پچھلی حکومتوں کے مقابلے میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔گریر نے یہ بھی بتایا کہ امریکہ دنیا کے کئی حصوں جیسے جنوب مشرقی ایشیا اور یورپ میں اپنی مصنوعات کے لیے نئے بازار کھول رہا ہے جس سے ہندوستان جیسے بڑے ممالک کے ساتھ بات چیت میں بھی مدد ملتی ہے۔ گریر نے اشارہ دیا کہ زراعت کے علاوہ ایوی ایشن اور دیگر شعبوں میں بھی ہندوستان کے ساتھ ٹیرف اور مارکیٹ تک رسائی سے متعلق مسائل پیدا ہوں گے۔ 1979 کے ہوائی جہاز معاہدے کے تحت زیرو ڈیوٹی چارج والے پرزوں پر بھی بات چیت آگے بڑھی ہے۔موران نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان امریکی مکئی اور سویا سے بنے ایتھنول کا بڑا خریدار بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے ممالک نے پہلے ہی امریکی ایتھنول کے لیے اپنے بازار کھول دیئے ہیں۔ کئی سینیٹرز نے غیر مستحکم ٹیرف اور چین کی قوت خرید میں تبدیلی کے درمیان امریکی کسانوں کو درپیش مشکلات کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا۔ اس کے جواب میں گریر نے اس بات پر زور دیا کہ انتظامیہ کا باہمی معاہدوں پر زوردینے سے برآمد کنندگان کے لیے نئے مواقع پیدا ہورہے ہیں۔