عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی://کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے بدھ کو الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی الیکشن کمیشن کو ووٹ چوری کے آلے کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ راہول گاندھی نے ایکس پر پوسٹ کیا ہندوستان کے لوگ یہ تین بہت اہم اور براہ راست سوال پوچھ رہے ہیں۔ چیف جسٹس کو الیکشن کمیشن کی سلیکشن کمیٹی سے کیوں ہٹایا گیا؟ الیکشن کمیشن کو 2024 کے انتخابات سے پہلے تقریباً مکمل قانونی تحفظ کیوں دیا گیا؟ 45 دنوں میں سی سی ٹی وی فوٹیج کو تباہ کرنے میں اتنی جلدی کیوں ہے؟انہوں نے الزام لگایا کہ ایک ہی جواب ہے۔الیکشن کمیشن کو ووٹ چوری کے آلے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ منگل کو لوک سبھا میں اپوزیشن کے رہنما راہول گاندھی نے الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ووٹ چوری کی کارروائیاں کر کے ’آئیڈیا آف انڈیا‘ کو تباہ کر رہی ہے۔لوک سبھا میں انتخابی اصلاحات پر بحث کے دوران 2023 کے الیکشن ایکٹ کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر کانگریس کی حکومت بنتی ہے، تو اس ایکٹ میں سابقہ اثر کے ساتھ ترمیم کی جائے گی اور الیکشن کمشنروں پر مقدمہ چلایا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ 2023 کے ایکٹ میں ترمیم کی ضرورت ہے کیونکہ اس نے الیکشن کمشنروں کو جو چاہیں کرنے کا اختیار دیا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ چیف جسٹس کو اس کی سلیکشن کمیٹی سے باہر رکھا گیا ہے۔چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنرز (تقرری، سروس کی شرائط اور میعاد) ایکٹ، 2023 کے تحت، تین رکنی سلیکشن کمیٹی وزیر اعظم، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر اور ایک کابینہ وزیر پر مشتمل ہوتی ہے۔