جاوید اقبال
مینڈھر // مینڈھر میں گزشتہ کئی برسوں سے زیرِ التوا منی سیکریٹریٹ کی تعمیر بالآخر ایک بڑی اور حوصلہ افزا پیش رفت کے ساتھ دوبارہ شروع ہونے جارہی ہے۔ عدالتی مداخلت، واضح ہدایات اور عوامی دلچسپی کے نتیجے میں حکام نے اس اہم منصوبے کے لئے مطلوبہ رقومات جاری کر دی ہیں، جس سے پوری تحصیل میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔یہ منصوبہ طویل عرصے سے تعطل کا شکار تھا، جس کے باعث سرکاری دفاتر کی عدم دستیابی، عوامی خدمات تک رسائی میں مشکلات اور لوگوں کو بنیادی کاموں کے لیے مختلف جگہوں کے چکر لگانے پڑ رہے تھے۔اس اہم عوامی معاملے کو لے کر ایڈووکیٹ ابرار احمد خان اور ان کی ٹیم نے عوامی مفاد کی خاطر CPPIL 1/18 کے تحت عدالتِ عالیہ جموں و کشمیر و لداخ سے رجوع کیا۔ سماعت کے دوران عدالت نے حکومت اور متعلقہ حکام کو سختی کے ساتھ حکم دیا کہ منی سیکریٹریٹ مینڈھر کی تعمیر مکمل کرنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کئے جائیں۔عدالت کے اس تاریخی اور فیصلہ کن حکم کو مینڈھر کی عوام نے بے حد سراہا ہے۔حکومتی حکم عدولی کے بعد انتظامیہ نے مجموعی طور پر 20 کروڑ روپے جاری کر دیے ہیں، جن میں سے 5.06 کروڑ روپے کے ٹینڈر کی منظوری بھی ہو چکی ہے، جبکہ بقیہ عمل تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ حکام کے مطابق بہت جلد تعمیرِ نو کا کام شروع کر دیا جائے گا۔منی سیکریٹریٹ کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد تمام تحصیل دفاتر ایک ہی عمارت میں دستیاب ہوں گے، جس سے عوام کو سرکاری خدمات تک آسان رسائی ملے گی،وقت اور اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی اور انتظامی ڈھانچے میں بے انتہا بہتری ہوگی۔مقامی شہریوں نے اس پیش رفت پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے ’مینڈھر کی عوام کا دیرینہ خواب شرمند تعبیر ہونے‘ سے تعبیر کیا ہے۔ لوگوں نے خصوصاً چیف جسٹس اروْن پالی اور جسٹس راجنیس اوسوال کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے حکومتِ جموں و کشمیر کو ایک رکے ہوئے عوامی منصوبے کو دوبارہ شروع کرنے پر مجبور کیا۔عوام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ آنے والے برسوں تک یاد رکھا جائے گا، کیونکہ اس نے نہ صرف ایک اہم منصوبے کو بحال کیا بلکہ ہزاروں لوگوں کی مشکلات بھی کم کردی ہیں۔ایڈووکیٹ ابرار احمد خان اور ان کے ساتھیوں نے بھی اس عوامی مفاد کے کیس کی مسلسل پیروی کرکے شاندار عوامی قدردانی حاصل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ CPPIL 1/18 میں جاری عدالتی احکامات کی مکمل تفصیلات جلد عوام کے سامنے پیش کی جائیں گی تاکہ لوگ بہتر طور پر سمجھ سکیں کہ کس طرح عدلیہ نے ان کے حق میں تاریخی فیصلہ سنایا۔