اعجاز میر
سرینگر // گلمرگ اور پونچھ کے درمیان 42کلو میٹر کا راستہ مکمل ہوگیا ہے اور اس پر میکڈمائزیشن کا کام اگلے سال اپریل مئی میں شروع کیا جائیگا۔دفاعی نوعیت کے لحاظ سے یہ روڑ بہت اہم ہے اور یہ لائن آف کنٹرول کے نزدیکی علاقوں سے ہو کر گذرتا ہے۔عام لوگوں کو شائد اس بات کی بہت کم علمیت ہوگی کہ پونچھ اور گلمرگ ایک ہی پہاڑی سلسلے کے دامن میں دو طرف آباد ہیں اور رہائشی بستیوں کا یہ فاصلہ محض کچھ گھنٹوں میں طے کیا جاسکتا ہے۔پونچھ ایک بہت بڑا پہاڑی علاقہ ہے، یہ لفظی طور پر کشمیر کے بیشتر حصے کو گھیرے ہوئے ہے اور اوڑی، ٹنگمرگ، بڈگام اور شوپیان سے قابل رسائی ہے۔ گلمرگ سے پونچھ جاکر سب سے پہلے ساوجیاں کا سامنا ہوتا ہے۔ساوجیاں “پونچھ کا گلمرگ” کہلاتا ہے، یہ علاقہ دیودار کی لکڑی اور روایتی مصنوعات سے مالامال ہے، جو تاریخی طور پر ایک اہم مقام ہے۔پونچھ سے، گلمرگ تک نیلکنٹ پاس کے ذریعے قابل رسائی ہے، جو تقریباً ایک ہی ٹریک سے گزرتا ہے لیکن ہلون سے ڈانگر ایلن، فرپت مارگ اور پھر گلمرگ کی طرف جاتا ہے۔
روٹ
گلمرگ پونچھ ٹریک ایک تاریخی، اونچائی والا راستہ ہے جو شاندار ہمالیائی مناظر پیش کرتا ہے، تاریخی طور پر یہ تجارت کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔گلمرگ سے پونچھ جاتے ہوئے چلڈرن پارک اسکے بعد برجی ڈھوک،ناگن ون ، ناگن ٹو اور پھر بوٹہ پتھری کا علاقہ آتا ہے۔بوٹہ پتھری بہے بڑا وسیع علاقہ ہے اور یہاں سے اونچائی شروع ہوجاتی ہے جو سب سے اونچے پہاڑ ’ چور پنجال‘ پر ختم ہوجاتی ہے۔چور پنجال قریب 13000فٹ کی اونچائی پر ہے۔یہاں سے پھر نیچے کی طرف راستہ شروع ہوجاتا ہے۔سب سے پہلے آنگن پتھری، اسکے بعد اکبر ڈھوک پھر ناریاں اور بعد میں گلی میدان کی جگہ آتی ہے۔گلی میدان ایک چھوٹا پہاڑی علاقہ ہے جہاں سے پونچھ کی جانب گلمرگ روڑ شروع ہوجاتا ہے۔ساوجیاں سے گلمرگ جاتے ہوئے سب سے پہلی بستی گلی میدان کی ہی آتی ہے جہاں سے روڑ کو نکالا گیا ہے۔یہ پورا ٹریک صرف 42 کلو میٹر کا ہے اور ساوجیاں سے دو گھنٹے سے تھوڑا زیادہ وقت گلمرگ پہنچنے میں لگے گا۔ چور گلی روٹ پونچھ اورساوجیاں اورگلی میدان چور گلی گلمرگ کو ملاتا ہے۔اسکے ایک طرف راستے نندن گلی سے گزرتے ہوئے متعدد الپائن جھیلوں جیسے نندنسر، گمسر اور جدی مارگ سے گزرتے ہیں۔ جبکہ سڑکیں اب ان کو جوڑتی ہیں، یہ ٹریک متنوع مناظر کے ساتھ ایک چیلنجنگ، مستند ہمالیائی تجربہ پیش کرتا ہے۔
چور پنجال
ساوجیاں کے گلی میدان گائوں سے نکل کر چور پنجال کے سب سے اونچے پہاڑ تک کا راستہ گھنے جنگلات سے گذرتا ہے۔چور پنجال کے پہاڑ تک راستہ زگ زیگ طریقے سے بنایا گیا ہے جس طرح جموں جاتے ہوئے پتنی ٹاپ تک کا راستہ ہے۔اوپر پہاڑ تک پہنچنے کے بعد دوسری جانب اسی طرح کا راستہ بوٹہ پتھری گلمرگ تک پہنچنے کیلئے بنایا گیا ہے ۔محکمہ جنگلات کا کہنا ہے کہ یہ راستہ تعمیر کرنے کے دوران جنگلاتی اراضی پر پھیلے درخت کاٹے گئے لیکن اس تعداد میں درخت اسکی زد میں نہیں آئے جسکی توقع کی جارہی تھی ۔چور پنجال کے اوپر آخری پوائنٹ پر پہنچنے کے بعد یہاں سے گلمرگ گنڈولہ صاف دکھائی دے رہا ہے اور گلمرگ کی پوری وادی کا نظارہ کیا جاسکتا ہے۔یہاں سے افروٹ، کنگہ ڈوری، منکی ہلز اور دوسرے مقامات کو دیکھا جاسکتا ہے، کیونکہ یہ ساوجیاں سے محض 17کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔
تعمیر کا کام
ماضی میں اس روٹ پر تجارت ہوا کرتی تھی لیکن اس میں کئی دن لگتے تھے لیکن سڑکوں نے سفر کا وقت کم کر دیا ہے اور اسی تسلسل کے تحت ایک نئی سڑک تیار کی جا رہی ہے۔پونچھ گلمرگ سڑک کی تعمیر 2012میں شروع کی گئی ہے اورکئی رکاوٹوں، نا مساعد حالات ، کویڈ اور موسمی صورتحال کی وجہ سے اسکی تعمیر میں بار بار خلل پڑا۔ محض 42کلو میٹر کی سڑک تعمیر کرنے میں 13سال کا طویل عرصہ لگا ہے۔ ابھی سڑک کی تعمیر بالکل اسی سڑک پر کی گئی ہے جہاں سے ماضی کی سڑک نکلتی تھی۔فی الحال سڑک پر روڑی بچھائی گئی ہے اور سیکورٹی فورسز اس سڑک کو استعمال کررہے ہیں لیکن سیول ٹریفک کی اجازت نہیں ہے۔ سڑک کی تعمیر مکمل ہوگئی ہے اور آئندہ سال اپریل مئی سے اس پر میکڈم بچھایا جائے گا۔سوجیان اور نیریاں کے درمیان سڑک کا تقریبا ً27 کلومیٹر حصہ 2019میںمکمل ہو گیا تھا، جبکہ 17 کلومیٹر طویل سڑک برسوں سے تکمیل کی منتظر ہے۔فوج کی جنرل ریزرو انجینئرنگ فورس (GREF) اس کو تعمیر کررہی ہے۔آنگن پتھری ساوجیاں گلمرگ سڑک پر کام بنیادی طورپر 2014 میں شروع کیا گیا تھا۔ زمین کے حصول، جنگل کی منظوری اور کچھ زمینی تنازعات کے باعث کام دوبارہ شروع کرنے میں تاخیر ہوئی۔