عظمیٰ ویب ڈیسک
نئی دہلی/وزیر اعظم نریندر مودی نے کانگریس پر وندے ماترم کے ساتھ دھوکہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ خوشامدانہ سیاست کے دباؤ میں کانگریس وندے ماترم کی تقسیم کے لیے جھکی اور مسلم لیگ کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے۔ مودی نے قومی گیت وندے ماترم کے 150 سال مکمل ہونے پر پیر کو لوک سبھا میں بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ وندے ماترم کے خلاف مسلم لیگ کی مخالفت کی سیاست تیز ہوتی جا رہی تھی۔ محمد علی جناح نے 15 اکتوبر 1937 کو لکھنؤ میں وندے ماترم کے خلاف نعرہ بلند کیاتھا تو کانگریس کے اس وقت کے صدر جواہر لعل نہرو کو اپنا تخت حکومت ہلتا نظر آیا۔
جواہر لعل نہرو نے ایسے وقت میں مسلم لیگ کو جواب دینے اور کانگریس کی وندے ماترم سے وفاداری کو ظاہر کرنے کے بجائے وندے ماترم کی ہی جانچ شروع کر دی۔ انہوں نے کہا کہ مخالفت کے پانچ دن بعد 20 اکتوبر کو جواہر لعل نہرو نے سُبھاش چندر بوس کو خط لکھا اور اس میں انہوں نے جناح کے جذبات سے اپنی رضامندی ظاہر کی، جس میں کہا گیا تھا کہ یہ گیت مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سُبھاش چندر بوس کو جو خط لکھا گیا اس میں جواہر لعل نہرو نے کہا کہ میں نے وندے ماترم کا پس منظر پڑھا ہے اور مجھے لگتا ہے کہ اس سے مسلمان بھڑکیں گے۔ اس کے بعد کانگریس کی طرف سے بیان آیا کہ 26 اکتوبر سے کانگریس کی ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ میں وندے ماترم کا جائزہ لیاجائے گا۔ اس سے پورا ملک حیران تھا۔ پورے ملک میں اس کی مخالفت میں پربھات پھیریاں نکالی گئیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ کانگریس نے وندے ماترم پر سمجھوتہ کر لیا۔ وندے ماترم کے ٹکڑے کر دیے۔ کانگریس نے مسلم لیگ کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ خوشامدانہ سیاست کے دباؤ میں کانگریس وندے ماترم کی تقسیم کے لیے جھکی، اسی لیے کانگریس کو ایک دن ہندوستان کی تقسیم کے لیے جھکنا پڑا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ بدقسمتی سے کانگریس کی پالیسیاں آج بھی و ہی ہیں۔ آج بھی کانگریس اور ان کے اتحادی وندے ماترم پر تنازعہ کھڑا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
مسٹر مودی نے کہا ’’وندے ماترم پر بابائے قوم مہاتما گاندھی کے جذبات کیا تھے، وہ بھی ایوان کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔ اس وقت جنوبی افریقہ سے انڈین اوپینین نامی ایک میگزین نکلتا تھا جس میں 2 دسمبر 1905 میں مہاتما گاندھی نے لکھا تھا کہ یہ گیت وندے ماترم جسے بَنکِم چندر نے لکھا ہے، پورے بنگال میں انتہائی مقبول ہو گیا ہے۔ سودیشی تحریک کے حق میں بڑی بڑی سبھائیں ہوئیں جہاں لاکھوں لوگوں نے یہ گیت گایا۔ انہوں نے لکھا کہ یہ گیت اتنا مقبول ہو گیا ہے جیسے یہ ہمارا قومی ترانہ بن گیا ہو۔ یہ دیگر قوموں کے گیتوں سے زیادہ میٹھاہے۔ یہ ہندوستان کو ماں کے روپ میں دیکھتا ہے اور اس کی حمد و ثناءکرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جس وندے ماترم کومہاتما گاندھی قومی ترانے کےطور پر دیکھتے تھے۔ یہ گیت اتنا عظیم تھا تو پچھلی صدی میں اس کے ساتھ اتنی بڑی ناانصافی کیوں ہوئی؟ اس کے ساتھ غداری کیوں ہوئی؟ کون سی طاقت تھی جس کی خواہش قابل احترام باپو پر بھی بھاری پڑ گئی اور وندے ماترم کو تنازعات میں گھسیٹ دیا؟ ہمیں ان حالات کو نئی نسل کو ضرور بتانا چاہیے کہ آخر کیوں وندے ماترم کے ساتھ غداری کی گئی۔‘‘
انہوں نے کہا کہ وندے ماترم نے ملک کو ہمت دی تھی۔ بنگال کی گلیوں سے نکلی آواز ملک کی آواز بن گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے جاں باز بغیر کسی ڈر کے پھانسی کے تختے پر چڑھتے تھے اور آخری وقت میں وندے ماترم کا نعرہ لگاتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بے شمار ویر سپوتوں نے ظلم سہا لیکن ایک ہی نعرہ تھا ایک بھارت شریشٹھ بھارت۔ انہوں نے کہا کہ ماسٹر سوریہ سین کو جب پھانسی دی گئی تب انہوں نے اپنے ساتھیوں کو ایک خط لکھا تھا جس میں ایک ہی گونج تھی وندے ماترم۔
وزیر اعظم نے کہا کہ دنیا میں کوئی ایک ایسا جذباتی گیت نہیں ہو سکتا جو صدیوں تک متاثر کرتا ہو لیکن وندے ماترم آج بھی ہمیں متاثر کر رہا ہے۔ اس میں ہماری آزادی، قربانی، توانائی، لگن اور ایثار کا منتر تھا۔ اس گیت کی مقبولیت نے اسی دور میں وندے ماترم کی ریکارڈنگ دنیا میں پہنچا دی۔ اس وقت لندن کے انڈیا ہاؤس میں ویر ساورکر نے یہ گیت گایا۔ اسی وقت وپن چندر پال نے اخبار نکالا جس کا نام بھی وندے ماترم رکھا۔ قدم قدم پر انگریزوں کی نیند حرام کرنے کے لیے وندے ماترم کافی تھا۔ میڈم بھیکاجی کاما نے بھی وندے ماترم اخبار نکالا۔ وندے ماترم نے ہندوستان کو خود انحصاری کا راستہ دکھایا۔ اس وقت ماچس کی ڈبیا سے لے کر جہاز پر وندے ماترم لکھا جاتا تھا۔ یہ سودیشی کا منتر بن گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ قومی شاعر سبرامنیم بھارتی نے وندے ماترم کو تمل میں لکھا تھا۔ ان کے کئی گیتوں میں وندے ماترم کی عقیدت نظر آتی ہے۔ ہندوستان کا جھنڈا گیت بھی مسٹر بھارتی نے ہی لکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جب بحرانوں کا دور ہوتا ہے تبھی پتہ چلتا ہے کہ ہم کتنے طاقتور ہیں۔ 1947 کے بعد ملک کے چیلنجز بدلے لیکن ملک کی حوصلہ مندی وہی رہی۔ جب بھی بحران آیا ہندوستان وندے ماترم کے ساتھ آگے بڑھا۔ ایک زمانہ تھا جب ملک میں غذائی بحران آیا تب کسانوں نے اناج سے بھر دیا۔ کورونا بحران میں بھی اسی جذبے سے ملک کھڑا ہوا اور آگے بڑھ گیا۔ وندے ماترم ہمارے لیے صرف یاد دہانی کے لیے نہیں بلکہ طابق بن جائے۔ ہم لوگوں پر وندے ماترم کا قرض ہے۔ ہندوستان کے پاس ہر چیلنج کو عبور کرنے کی طاقت ہے۔ یہ ہمارے لیے تحریک ہے۔ ہم آتم نربھر بھارت کا خواب لے کر چل رہے ہیں۔
کانگریس نے’’وندے ماترم‘‘ سے دھوکہ کیا: وزیر اعظم مودی