بلال فرقانی
سرینگر // جموں و کشمیر میں اتوار کو مشترکہ مسابقتی امتحانات آخرکار مقررہ وقت پر منعقد ہوئے، باوجود اس کے کہ گزشتہ کئی دنوں سے شدید سفری خلل، پروازوں کی منسوخی، عمر کی حد کے تنازع اور لوک بھون و منتخب حکومت کے درمیان کھلے اختلافات کے باعث امتحان کے التوا کے مطالبات زور پکڑتے رہے۔ اتوارصبح 10 بجے امتحان اپنے شیڈول کے مطابق شروع ہوا اور اس کے ساتھ ہی کئی روز کی بے یقینی کا خاتمہ ہوا۔امتحان سے ایک روز قبل وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جموں کشمیر پبلک سروس کمیشن چیئرمین کو خط لکھ کر اسے ’’غیر معمولی صورتحال‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پروازوں کی بڑے پیمانے پر منسوخی نے امیداروں کے سفر کو بری طرح متاثر کیا ہے اور اس کے ساتھ ہی عمر کی بالائی حد میں نرمی کے معاملے پر لوک بھون کی جانب سے ’’تاخیر‘‘ نے کنفیویژن بڑھا دیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ غیر یقینی صورتحال براہ راست امیدواروں کے مفاد پر اثر ڈال رہی ہے۔تاہم لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے فوری ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اس بات کی سختی سے تردید کی۔ انہوں نے کہا کہ عمر میں نرمی کی فائل انہوں نے 2 دسمبر کو ہی اسی روز اس سوال کے ساتھ واپس کر دی تھی کہ اگر عمر کی حد میں نرمی کی منظوری دی جاتی ہے تو کیا امتحان 7 دسمبر کو ہی لیا جا سکتا ہے؟ سنہا نے کہا کہ اس کے بعد حکومت کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ جموں کشمیر پبلک سروس کمیشن نے 22 اگست کو ہی مشترکہ تقابلی امتحانات کا اشتہار جاری کیا تھا اور امتحان کی تاریخ واضح طور پر 7 دسمبر مقرر تھی۔ یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ ان امتحانات میںعمر کی حد کا تنازع نئی بات نہیں۔ پچھلے سال 2024 میں بھی اسی معاملے پر شدید اختلافات سامنے آئے تھے۔ اس وقت عمومی انتظامی محکمہ نے مشترکہ تقابلی امتحانات، 2024کیلئے عمر کی بالائی حد میں4 سال کی نرمی کا اعلان کیا تھا۔ اس ترمیم کے مطابق اوپن میرٹ کی عمر 31 سے بڑھاکر 35 سال، ریزروڈ اور اِن سروس امیدواروں کی عمر 34 سے بڑھاکر 37 سال، اور جسمانی طور پر معذور امیدواروں کی عمر 35 سے بڑھاکر 38 سال کر دی گئی تھی۔ اس فیصلے کے بعد جموں کشمیر پبلک سروس کمیشن نے 17 نومبر 2024 کو ہونے والا پرلمنری امتحان ملتوی کر دیا تھا۔ نوٹیفکیشن میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ امتحان کی نئی تاریخ بعد میں جاری کی جائے گی۔گزشتہ تین برسوں میں یہ صورتحال بار بار دہرائی گئی ہے۔امیدواروں کا کہنا ہے کہ 2023 سے 2025 کے درمیانی عرصے تک عمر کی حد، امتحان کی تاریخ یا اہلیت کے معاملے پر کوئی بڑا تنازع نہیں ہوا ، نہ ہی رعایت کے معاملے پر کوئی اختلاف سامنے آیا ۔ لیکن اس امسال اچانک پیدا ہونے والی کشیدگی نے کئی بیچز کے امیدواروں کو متاثر کیا ۔ بہت سے امیدواروںکا کہنا ہے کہ پچھلے برسوں کی طرح واضح چھوٹ نہ ملنے سے وہ عمر کی حد سے باہر ہو گئے ہیں، جو ’’انتہائی مایوس ‘‘ ہیں۔انہوں نے کہا’’کبھی سیاسی اختلاف، کبھی نوٹیفکیشن میں خامیاں اور کبھی امتحان کے چند روز قبل شیڈول بدلنے جیسے مسائل نے انہیں ذہنی اور عملی طور پر شدید متاثر کیا ہے۔‘‘ کئی امیدواروں نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ متعدد بیچ کے امیدوار عمر کی حد سے باہر ہوگئے ہیں، کیونکہ پچھلے برسوں کی طرح بڑے پیمانے پر رعایت جس کے تحت اوپن میرٹ امیدوار 37 سال تک اہل تھے،اب بھی مکمل طور پر بحال نہیں کی گئی۔ امیدواروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ3برسوں کے دوران جب بھی عمر کی حد میں چھوٹ کا اعلان کیا گیا تو کھبی اس پر سرکاری سطح پر سوالات نہیں اٹھائے گئے،تاہم امسال وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ سوالات کیوں کھڑے کئے گئے۔آج کے امتحان کے انعقاد نے نہ صرف سیاسی اختلافات کو نمایاں کیا بلکہ اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مشترکہ تقابلی امتحانات جیسے اہم امتحان کے لیے پالیسی اور انتظامی سطح پر ہم آہنگی کا فقدان پورے نظام پر سوال کھڑے کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ضروری ہے کہ عمر کی حد، امتحانی شیڈول اور پالیسی کے حوالے سے ایک مستقل، واضح اور قابلِ اعتماد نظام وضع کیا جائے تاکہ ہر سال امیدواروں کو درپیش اس غیر یقینی صورتحال کا مکمل خاتمہ ہو سکے۔