عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے جمعہ کو جموں و کشمیر حکومت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ پہلے سال میں مرکز کے زیر انتظام علاقے کے تحت دیئے گئے محدود اختیارات کے اندر بہت کچھ حاصل کیا گیا ۔تاہم عبداللہ نے کہا کہ لوگوں کی تکالیف کو کم کرنے کے لیے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔عبداللہ نے یہاں کہا، “ہمارے پاس ابھی بھی بہت کچھ کرنے کے لیے ہے۔ ہم اس سال جو کچھ بھی کر سکتے تھے، وہ آپ کے سامنے ہے۔ ہمارے مخالفین ہمیشہ آپ کو بتائیں گے کہ یہ یا ایسا نہیں ہوا، لیکن وہ آپ کو یہ نہیں بتائیں گے کہ کیا حاصل ہوا،” ۔وہ والد شیخ محمد عبداللہ کے مزار کے قریب پارٹی کارکنوں سے خطاب کر رہے تھے۔این سی سربراہ نے کہا کہ منتخب حکومت کے پہلے سال میں سب سے بڑی کامیابی یہ رہی ہے کہ “اب ہم آزادانہ گھوم پھر سکتے ہیں، اور آزادانہ بات کر سکتے ہیں”۔انہوں نے مزید کہا کہ آج ہمارے مخالفین ریلیاں نکالتے ہیں اور احتجاجی مارچ کرتے ہیں۔تاہم، عبداللہ نے پارٹی اور حکومت کے خلاف بولنے والے پارٹی رہنمائوں پر افسوس کا اظہار کیا۔”خدا کے لیے، مجھے بتائیں کہ ایک سال میں اس سے زیادہ کیا کیا جا سکتا تھا، حالانکہ سب کچھ لیفٹیننٹ گورنر پر منحصر ہے، اس کے باوجود ہماری پوری کوشش عوام کی تکالیف کو کم کرنے کی رہی ہے، اراکین اسمبلی ہر کونے میں جا کر لوگوں کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، کیا آپ کو نظر نہیں آتا؟” ۔انہوں نے پارٹی کارکنوں سے کہا کہ ہمارے پاس ابھی چار سال باقی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ نوجوان اور تعلیم یافتہ چہروں بالخصوص خواتین کو فعال سیاست میں متعارف کرایا جائے۔انہوں نے کہا”میونسپل اور پنچایتی انتخابات قریب آرہے ہیں، نوجوانوں کو اب ذمہ داری سنبھالنی چاہیے، ہمارے پڑھے لکھے لڑکوں اور لڑکیوں کو آگے بڑھ کر اپنے لوگوں کی خدمت کرنے کی ضرورت ہے، پارٹی کو مضبوط کرنے پر توجہ دیں اور بیانات دینا بند کریں” ۔