انسانی زندگی اللہ تعالیٰ کا عطیہ اوراس کی گراں قدر نعمت ہے جس کی قیمت ہر فردبشر پر عیاں ہے اوراس کی حفاظت ہرہوش مند آدمی پرواجب ہے،اگر وہ اس کی ناقدری کرتے ہوئے اسے ضائع کرتاہے یااس کی حفاظت سے رو گردانی کرتاہے تو یہ اس نعمت کے ساتھ ناانصافی اوراللہ تعالیٰ سے بغاوت کےمترادف ہے ۔سگریٹ نوشی بھی حرام ہے کیوں کہ یہ گندی چیز ہے اور بہت سے نقصانات پر مشتمل ہے۔ تمباکو اپنی تمام قسموں سمیت پاکیزہ چیزوں میں سے نہیں، اسی طرح تمام نشہ آور چیزیں بھی گندی چیزوں سے ہیں۔ لہٰذا جو شخص سگریٹ پیتا ہے اور اس کی تجارت کرتا ہے اسےاپنے فعل پر نادم ہونا اور آئندہ نہ کر نے کا پختہ عزم کرنا چاہیے۔بے شک جوانی وہ عرصہ حیات ہے، جس میں اِنسان کے قویٰ مضبوط اور حوصلے بُلند ہوتے ہیں۔ایک باہمت جوان پہاڑوں سے ٹکرانے،طوفانوں کا رُخ موڑنے اور آندھیوں سے مقابلہ کرنے کا عزم رکھتا ہے۔
ماضی میں جب اسکولوںاور کالجوں میں کھیل کے میدان میں کھیلوں کے مقابلے منعقد کئے جاتے تھے، اس میں ہر طبقے کے بچّے شامل ہوتے تھے، ان کھیلوں کے ذریعے صبر و برداشت،دوڑ دھوپ اورمقابلہ کرنے کے جذبات پیدا ہوتے تھے۔مگر افسوس کہ آج ہمارے زیادہ تر نوجوان جہد و عمل سے کوسوں دور ہیں ،اور اِنٹرنیٹ و منشیات کے زہریلے حصار میں جکڑے ہوئے ہیں،انھیں اپنے تابناک مستقبل کی کوئی فکر نہیں،وہ اپنی متاع حیات سے بے پرواہ ہوکر تیزگامی کے ساتھ نشہ جیسے زہر ہلاہل کو قند سمجھ رہے ہیں اور ہلاکت و بُربادی کے گھاٹ اُتر رہے ہیں۔اب تو سگریٹ وشراب نوشی کی وجہ مجبوری یا ڈپریشن نہیں ہےبلکہ ہم عصروں اور دوستوں کو دیکھ کر دِل میں انگڑائی لینے والا جذبہ ٔ شوق بن چکا ہے۔ اکثر بچے اور نو جوان، والدین کی غفلت اور ان کے سرد رویے کی وجہ سے نشے کی لت کا شکار ہورہے ہیں جو ہم سب لئے لمحہ فکر ہے۔
شراب اوردیگر نشہ آور چیزوں کی بہتات کا ایک سبب ٹی وی پر دکھائے جانے والے مخرب اخلاق پروگرام اور فواحش و منکرات پر مبنی فلمیں ہیں۔ جو نوجوانوں میں منشیات کی لت پیداکرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔جس کے نتیجے میںمنشیات کا استعمال ایک ناسور کی شکل اختیار کرتا جارہا ہے۔ منشیات بیچنے والے بنا ڈر وخوف کے اپنا زہریلاکاروبار کھلے عام کررہے ہیں، خاص کر شام کے وقت کھلی جگہوں،ہسپتال کے احاطوں،گلی و محلوںیہاں تک کہ قبرستانوں میں بھی منشیات کی خرید وفروخت ہورہی ہے، جس سے نوجوان نسل تیزی کے ساتھ اس وباء کی شکار ہوتی جارہی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ کالجز کے طلاب منشیات کا کاروبار کرنے والوں کیلئے آسان ترین ہدف بن چکے ہیں، ہوسٹل میں رہنے والے لڑکے اور لڑکیاں منشیات فروش کے آسان شکار ہوتے ہیں،جس کے نتیجے میں اب کالج اور اسکول کے لڑکوں اور لڑکیوں کی ایک خاصی تعداد اس لت کی زد میں آچکی ہیںاوریہ تعداد اب سینکڑوںمیں نہیں بلکہ ہزاروںمیں ہوگئی ہے۔ اگر یہی صورتحال رہی توعنقریب ہی لاکھوں کی تعداد میں لوگ کسی نہ کسی نشہ میں مبتلا ہوکر موت کی آغوش میں چلے جائیںگے۔
آج بحیثیت انسان اور مسلمان ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم معصوم بچوں اور نوجوان نسل کو نشے کی لعنت سے بچائیں۔ تمام مذہبی ادارے، اسکول و کالج، سماج سدھار تنظیمیں، NGO اور حکومتی سطح پر بھی یہ کام سر انجام دیا جانا چاہیے، یہ بُرائی ہمارے معاشرے کو گھن کی طرح کھا رہی ہی اور ہمیں معاشرے کو اس بُرائی سے بچانا ہے۔ آج یہ کام ہمارے لیے فرض عین کی شکل اختیار کر گیا ہے اور اس کے لئے ہم سب کو متحد ہوکر ایک پلیٹ فارم پر آنا ہوگا، تاکہ معاشرے کو اس لعنت سے پاک کرسکیں۔اگر اب بھی ہم اس مسئلے پر سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کرتے اور اس کے خلاف موثر اقدام نہیں اٹھاتے ہیں تو آج نہیں تو کل یہ لعنت ہمارے گھر اور خاندان تک پہنچ سکتی ہے اور ہمارے افراد بھی منشیات کی لت میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔ اس لئے تقاضا یہی ہے کہ ہر کسی کا یہ حق ہے کہ وہ معاشرے کو منشیات سے پاک کرنے کیلئے تگ ودو کریں، معاشرے کو منشیات سے پاک کرنا کوئی ناممکن کام نہیں ہے،بشرطیکہ سرکار اور عوام صدق دلی کے ساتھ متحد ہوکر اس لعنت کی روک تھام کے لئےکھڑے ہوجائیں۔