عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بدھ کے روز کہا کہ جموں و کشمیر کے لوگوں سے کیے گئے وعدوں کے مطابق ریزرویشن پالیسی کو معقول اور منصفانہ بنانے کی بھرپور کوشش کی گئی ہے۔جموں میں کابینہ میٹنگ کی صدارت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نےکہا کہ کابینہ نے اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی کہ کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔انہوں نے کہا، ’’جو ریزرویشن کے معاملے میں ہم نے عوام سے وعدے کیے تھے، ان کو عملی جامہ پہنانے کی پوری کوشش کی گئی۔ ساتھ ہی یہ بھی دیکھا گیا کہ کسی کے ساتھ کوئی ناانصافی نہ ہو۔‘‘
بغیر کسی کا نام لیے عمر عبداللہ نے کہا کہ جو لوگ پہلے حکومت پر تنقید کرتے تھے کہ کچھ نہیں کیا گیا، وہی اب احتجاج کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ ’’اس مسئلے پر سیاست کرنا بہت آسان ہے۔ جو ہمیں طعنے دے رہے تھے کہ ہم نے کچھ نہیں کیا، اب وہ کہہ رہے ہیں کہ اگر آپ نے یہ قدم اٹھایا تو ہم احتجاج شروع کریں گے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ ریزرویشن کے معاملے پر اس سے زیادہ کچھ نہیں کیا جاسکتا تھا۔
انھوں نے کہا ’’ہم اس سے زیادہ تفصیلی مشق نہیں کرسکتے تھے۔ ہر پہلو کا جائزہ لیا گیا۔ یہ معاملہ کابینہ میں کئی بار زیرِ بحث آیا۔ کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے چھ ماہ میں پورا عمل مکمل کیا۔تاہم عمر عبداللہ نے کابینہ کے فیصلے کی تفصیلات بتانے سے انکار کیا۔انہوں نے کہا، ’’یہ معاملہ اب ایل جی کے پاس جائے گا۔ اس پر مزید بات کرنا مناسب نہیں ہوگا۔‘‘
لوگوں سے کیے گئے وعدوں کے مطابق ریزرویشن پالیسی کو معقول اور منصفانہ بنانے کی بھرپور کوشش کی گئی: وزیراعلیٰ عمر عبداللہ