عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی //موسم سرما میں دہلی-این سی آر کی ہوا ہر سال زہریلی ہو جاتی ہے اور رواں سال بھی یہ سلسلہ برقرار ہے۔ پچھلے 7 سالوں (2019-2025) کے اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ موسم سرما کے دوران پی ایم 2.5 کی سطح مسلسل خطرناک رہی ہے۔ اکتوبر اور نومبر کے دوران پی ایم 2.5 کی اوسط سطح 140 اور 180 مائیکرو گرام فی مکعب (کیوبک) میٹر کے درمیان رہی جو عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے 2.5 مائیکرو گرام فی مکعب میٹر کے محفوظ معیار سے کئی گنا زیادہ ہے۔ بعض اوقات یہ 700-800 مائیکروگرام فی کیوبک میٹر کی انتہائی سطح تک بھی پہنچ جاتا ہے۔ یہ انکشاف سینٹر فار سائنس اینڈ انوائرمنٹ (سی ایس ای) کی نئی رپورٹ میں ہوا ہے۔رپورٹ کے مطابق موسم رما میں دہلی-این سی آر کا پی ایم 2.5 کی سطح خطرناک رہی ہے جس میں کوئی خاص بہتری نہیں نظرآئی ہے۔ 2019 میں جہاں اوسط پی ایم 2.5 کی سطح 162 مائکرو گرام فی مکعب میٹر تھی اور بلند سطح 725 تک پہنچی۔ 2020 میں اوسط بڑھ کر175.5 اور733 کی چوٹی تک پہنچ گئی۔ 2021 میں اوسط 159.1 اور 776 بلند 776 مائیکرو گرام فی کیوبک میٹر ریکارڈ ہوئی۔ اسی طرح 2022 میں معمولی گراوٹ کے ساتھ اوسط 140.9 اور 406 کی چوٹی پر رہی لیکن اس کے بعد سطح میں دوبارہ اضافہ ہوا۔ 2023 میں اوسط 170.3 اور بلند ترین 580 تھی، 2024 میں اوسط 180.2 اور بلند سطح 732 درج کی گئی۔ رواں سال یعنی اکتوبر سے نومبر کے وسط تک اوسط 164.1اور بلند سطح 464 مائیکروگرام فی مکعب میٹر رہی۔