سکیمیں و قوانین موجود لیکن عملدرآمد نہیں، ماہانہ حکومتی مشاہرہ نہ ہونے کے برابر
بلال فرقانی
سرینگر//دنیا بھر میں آج عالمی یومِ معذورین منایا جا رہا ہے، مگر جموں و کشمیر میں خاص طور پر معذور بچوں کی زندگی اب بھی محرومیوں، نظرانداز شدہ مسائل اور ان دکھ بھری خاموش جدوجہدوں سے عبارت ہے جو اکثر لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہتی ہیں۔ 2011کی مردم شماری کے مطابق خطے میں معذور افراد کی تعداد 3لاکھ 61ہزار ہے، جن میں بچوں کی تعداد قریب ایک لاکھ ایک ہزار سے زیادہ ہے۔ ان بچوں میں لڑکوں کی تعداد 56366اور لڑکیوں کی تعداد45062ہے۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اصل اعداد و شمار اس سے کہیں زیادہ ہوسکتے ہیں لیکن ان کی ضرورتیں اور مشکلات آج بھی وہیں ہیں۔حکومت کے پاس قانونی حقوق اور مالی مدد فراہم کرنے کے لیے جموں کشمیر Persons with Disabilities Act اور اندرا گاندھی نیشنل ڈس ایبلٹی پنشن سکیم جیسی قانون سازی اور سکیمیں بھی ہیں۔ لیکن ان پر عملدر آمد نہیں کیا جارہا ہے۔جموں و کشمیر میں مختلف غیر سرکاری تنظیموں کے ذریعے خصوصی ضروریات والے بچوں کے لیے 18 سے زیادہ سکول چلائے جا رہے ہیں۔معالج اطفال ڈاکٹر شیخ عامر رسول کا ماننا ہے کہ کئی اضلاع میں ایسے بچے ہیں،جنہیں جسمانی، ذہنی اور بصری معذوری لاحق ہے لیکن یہ بدستور بنیادی سہولیات اور بروقت تشخیص سے محروم ہیں۔ دور دراز علاقوں میں ہسپتال اور تھراپی مراکز نہ ہونے کی وجہ سے والدین اپنے بچوں کو پہاڑوں اور دشوار گزار راستوں سے اٹھا کر شہروں تک لاتے ہیں، مگر اکثر انہیں خالی ہاتھ لوٹنا پڑتا ہے۔ کرناہ کا مشتاق احمد، جو اپنی بیٹی کے لئے ہر ہفتے کئی کلومیٹر کا سفر کرتا ہے، نے جذباتی لہجے میںکہا،ہم برف اور پہاڑ عبور کرتے ہیں، لیکن کبھی ڈاکٹر تک پہنچ ہی نہیں پاتے۔ ہار مان لینا آسان ہے، مگر ہم اپنی بچی سے ہار نہیں سکتے۔سماجی رویے بھی ان بچوں کی زندگی میں ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔ معاشرے کے کئی حصوں میں معذوری کو آج بھی کمزوری یا بدقسمتی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ چرار شریف کی شریفہ بانو نے دل گرفتہ ہو کر کہا کہ لوگ میرے بچے کو نہیں، اس کی وہیل چیئر کو دیکھتے ہیں، یہ تکلیف دیتا ہے کہ میری بچی کو ہمدردی نہیں قبولیت چاہیے۔ انہوں نے مزید کہامیرا بچہ ہر دن ایک نئی امید کے ساتھ اٹھتا ہے، مگر ہسپتالوں کے چکر، مہنگی دوائیں اور سہولیات کی کمی اس کی امید کو توڑ دیتی ہیں۔تعلیمی نظام کی صورتحال بھی کچھ مختلف نہیں۔ قوانین اگرچہ ہر بچے کو مساوی تعلیم کا حق دیتے ہیں، مگر بیشتر سرکاری سکولوں میں نہ ریمپ ہیں، نہ بریل کتابیں، نہ سائن لینگویج مترجم اور نہ خصوصی اساتذہ۔میر شبیر، جس کے بیٹے کو آٹزم ہے، کا کہنا ہے کہ اساتذہ اس کی ضرورتیں سمجھ نہیں پاتے اور اسے ضدی یا سست کہہ دیتے ہیں۔انہوں نے مزید کہاہم اپنے بچوں کو پڑھا کر آگے بڑھانا چاہتے ہیں لیکن سکولوں میں معیارِ تعلیم اور ٹرانسپورٹ کی بدحالی ان کے حوصلے اور وقت دونوں کو کھا رہے ہیں نیز نظام کی خامیاں ان بچوں سے ان کا بچپن چھین رہی ہیں۔شہروں میں کچھ این جی اوز اور خصوصی مراکز ایسے بچوں کو تھراپی اور تربیت فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن ان کی گنجائش اور رسائی محدود ہے۔والدین اور سماجی تنظیمیں مطالبہ کر رہی ہیں کہ حکومتی سکیموں پر حقیقی معنوں میں عمل کیا جانا چاہیے۔، سکولوں میں معذور بچوں کے لئے بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں، خصوصی اساتذہ کی تعداد بڑھائی جائے اور نوجوانوں کے لیے معاون آلات و ٹیکنالوجی تک رسائی آسان بنائی جائے۔والدین کا کہنا ہے کہ سرکاری وعدے کاغذوں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں جبکہ زمینی سطح پر صحت، تعلیم، صفائی، ٹرانسپورٹ، سوشل ویلفیئر اور بچوں کی فلاح کے شعبوں میں موجود خامیاں روز بروز بڑھتی جا رہی ہیں۔عالمی یومِ معذورین کے موقع پر جموں و کشمیر کے یہ بچے اپنے حوصلے سے یہ ثابت کر رہے ہیں کہ معذوری انہیں محدود نہیں کرتی، بلکہ ان کی ہمت اور لگن ہی ان کی اصل پہچان ہے۔ وادی کی فضا میں گونجتی ان ننھی آوازوں کی یہ خاموش جدوجہد پورے معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑتی ہے، اور یاد دلاتی ہے کہ حقیقی ترقی تب ہی ممکن ہے جب ہر بچہ، چاہے وہ کیسا بھی ہو ، خود کو اس دنیا کا برابر کا حصہ محسوس کرے۔لیکن المیہ یہ ہے کہ حکومت ایسے ہی بچوں کو ہر ماہ تین ہزار نہیں بلکہ 1250روپے دیتی ہے، جو حاتم طائی کی قبر پر لات مارنے کے برابر ہے۔