یو این آئی
جموں// 1989 کے ہائی پروفائل روبیہ سعید اغوا کیس میں ایک اہم پیش رفت کے تحت خصوصی ٹاڈا عدالت نے شفاعت احمد شانگلو کو رہا کرنے کا حکم دیتے ہوئے سی بی آئی کی حراست کی درخواست مسترد کر دی۔ سی بی آئی نے شانگلو کو ایک روز قبل گرفتار کیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ وہ گزشتہ 35 برس سے مفرور تھا اور جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے ساتھ مل کر روبیہ سعید کے اغوا کی سازش میں شریک تھا۔ شانگلو کے سر پر 10 لاکھ روپے کا انعام بھی مقرر تھا۔تاہم عدالت نے قرار دیا کہ سی بی آئی کی جانب سے دائر کیے گئے چارج شیٹ میں شانگلو کا ذکر موجود ہی نہیں، اس لیے اس کی حراست کی کوئی قانونی بنیاد نہیں بنتی۔ عدالت نے مزید کہا کہ ایسے حساس اور پرانے مقدمے میں قانونی تقاضوں کا سنجیدگی سے خیال رکھنا چاہئے۔ سی بی آئی کے مطابق شانگلو مبینہ طور پر یاسین ملک کا قریبی ساتھی تھا اور 1989 میں روبیہ سعید کے اغوا کے دوران تنظیم کے مالی معاملات بھی دیکھتا تھا۔ سی بی آئی اور جموں و کشمیر پولیس نے اسے سرینگر کے نشاط علاقے سے گرفتار کیا تھا۔