عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی// نیشنل کانفرنس لیڈر اور راجیہ سبھا رکن پارلیمان چودھری محمد رمضان نے پیر کو کہا کہ جموں و کشمیر میں منتخب حکومت کے پاس “کوئی اختیار نہیں” رہ گیا ہے، اور یہ تمام “اختیار” لیفٹیننٹ گورنر کے پاس ہے۔ایوان بالا میں منتخب ہونے کے بعد اپنے پہلے خطاب کے دوران راجیہ سبھا ممبر نے کہا کہ اکتوبر 2024 میں ہونے والے انتخابات اور نئی حکومت کی تشکیل کے باوجود، اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا ’’ ہماری حکومت کے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے، تمام اختیارات ایل جی کے ہاتھ میں ہیں، وہاں سے آرڈر آتے ہیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ اگر اس کے پاس کام کرنے کے اختیارات نہیں تو منتخب حکومت کا کیا مقصد ہے۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے لوگوں نے نیشنل کانفرنس کی حکومت کو ایک مضبوط مینڈیٹ دیا ہے، لیکن اسکے باوجود بھی منتخب نمائندے فیصلہ سازی کے مکمل اختیار میں نہیں ہیں۔
’’پہلا دن، پہلا شو‘‘
عمر کی چودھری کی تقریر کی تعریف
عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کو راجیہ سبھا میں نیشنل کانفرنس لیڈر چودھری محمد رمضان کی تقریر کا خیر مقدم کیا، جہاں پارلیمنٹ کے اجلاس کے پہلے دن جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ بحال کرنے کا مسئلہ اٹھایا گیا۔سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں عمر عبداللہ نے کہا کہ رمضان نے ایوان بالا میں پہلے دستیاب موقع کا استعمال مرکزی حکومت کو جموں و کشمیر میں ریاست کا درجہ بحال کرنے کے عزم کی یاد دلانے کے لیے کیا۔ انہوں نے اس اقدام کو بروقت اور اہم قرار دیا جو پارٹی کے اس مسئلے کو پارلیمنٹ میں زندہ رکھنے کے ارادے کا اشارہ دیا۔نیشنل کانفرنس نے ایک بیان بھی پوسٹ کیا جس میں کہا گیا کہ جموں و کشمیر حکومت کو غیر موثر قرار دیا گیا ہے اور تمام بڑے انتظامی اختیارات ایل جی کے پاس ہیں۔