عظمیٰ ویب ڈیسک
نئی دہلی/جموں و کشمیر سے نومنتخب راجیہ سبھا ممبر چودھری رمضان نے ایوانِ بالا میں جموں و کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں عوامی منتخب حکومت کے پاس عملاً کوئی اختیار نہیں رہا ہے، جب کہ تمام تر اختیارات لیفٹیننٹ گورنر کے پاس ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال نے عوامی مسائل کے حل کے عمل کو شدید متاثر کر رکھا ہے۔راجیہ سبھا میں خطاب کرتے ہوئے چودھری رمضان نے واضح کیا کہ عوامی نمائندوں کی زمینی سطح پر کوئی موثر عمل داری نہیں، جس کے باعث منتخب نمائندے عوامی مشکلات کا بروقت ازالہ کرنے میں ناکام دکھائی دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب فیصلہ سازی کا ہر بڑا اختیار لیفٹیننٹ گورنر کے پاس ہو، تو عوامی حکومت کا وجود محض رسمی رہ جاتا ہے۔
چودھری رمضان نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر ایک چھوٹی سی ریاست ہے لیکن یہاں کے مسائل پیچیدہ اور کثیرالجہتی ہیں، جن کے حل کے لیے مضبوط، بااختیار اور فعال عوامی حکومت ضروری ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ترقیاتی منصوبوں، امن و امان، روزگار، شہری سہولیات اور انتظامی معاملات میں منتخب حکومت کو مکمل اختیارات ملنا لازمی ہے تاکہ عوام کو حقیقی معنوں میں فائدہ پہنچ سکے۔راجیہ سبھا ممبر نے مرکز سے مطالبہ کیا کہ جموں کشمیر کے عوامی منڈیٹ کا احترام کرتے ہوئے منتخبہ عوامی حکومت کو مکمل اختیارات دیں جائیں تاکہ عوامی حکومت اپنا کردار پوری صلاحیت کے ساتھ ادا کرسکے۔چودھری رمضان کے اس بیان کو سیاسی و سماجی حلقوں میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر اس وقت جب جموں و کشمیر میں انتظامی ڈھانچے کے حوالے سے پہلے ہی وسیع بحث جاری ہے۔
جموں و کشمیر میں عوامی حکومت اختیارات سے محروم، تمام کنٹرول لیفٹیننٹ گورنر کے پاس: چودھری رمضان