ظفر اقبال
اوڑی//اوڑی میں نئے تعمیر شدہ نند سنگھ (این ایس)پل کو گاڑیوں کی آمد ورفت کیلئے لوگوں نے فوری طور کھولنے کی مانگ کی۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ انہیں بے تابی سے انتظار ہے کہ کب یہ پل کھل جائے اور انہیں کسی حد تک راحت ملے گی۔یہ پل 20سال کے وقفے کے بعد دوبارہ تعمیر کیا گیا ۔ نئے پل کی تعمیر رواں سال جولائی میں مکمل ہوئی تھی اور اس کے بعد اس کے سرکاری افتتاح کا انتظار ہے۔ یہ تاریخی پل سرینگرمظفرآباد سڑک پر حاجی پیر نالہ پر تعمیر کیا گیا ہے جو درجنوں دیہات کو اوڑی تحصیل ہیڈ کوارٹر سے جوڑتا ہے۔خاص طور پر وہ لوگ جو لائن آف کنٹرول کے قریب ہیں۔ 2005کے زلزلے کے دوران اس پل کو شدید نقصان پہنچا تھا۔یہ پل فوجی گاڑیوں کی نقل و حرکت کو اوڑی بریگیڈ میں بھی سہولت فراہم کرتا ہے اور اس سے قبل یہ پل کمان پوسٹ کے ذریعے کراس باڈر ٹریڈ اورامن بس سروس کے راستے کے طور پر کام کرتا تھا۔مقامی لوگوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ پل خطے کے رہائشیوں کیلئے ایک اہم لائف لائن کے طور پر کام کرتا ہے۔ انہوں نے کہا ’’ہمیں خوشی تھی کہ اسے 20سال بعد دوبارہ تعمیر کیا گیا تھا لیکن ہم ابھی بھی اس کے دوبارہ کھلنے کیلئے بے تابی سے انتظار کررہے ہیں‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ 2005میں اصل ڈھانچے کو نقصان پہنچانے کے بعد بارڈر روڈس آرگنائزیشن (بی آر او) نے ایک عارضی پل تعمیر کیا۔ لوگوں نے مزید کہا کہ یہ اکثر ناقابل اعتبار ثابت ہوا ہے۔ ایک مقامی شہری نے کہا کہ کئی بار عارضی پل کی پلیٹوں کو نقصان پہنچا ، جس سے گھنٹوں ٹریفک رک گیا اور بڑی تکلیف کا باعث بنے‘‘۔مقامی باشندوں نے اب مسافروں کی مشکلات کو کم کرنے اور شہر میں عام رابطے کو بحال کرنے کے لئے نئے تعمیر شدہ نند سنگھ برج کو فوری طور پر کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔سب ڈویژنل مجسٹریٹ (ایس ڈی ایم)اوڑی شوبنکر پاٹھک نے اس سلسلے میںبتایا کہ پل پر فی الحال روغن کیا جارہا ہے۔ہم توقع کر رہے ہیں کہ اگلے مہینے کے آخر تک پل کو ٹریفک کیلئے کھول دیا جائے گا‘‘۔