نریندر مودی کاخوشحال بھارت کیلئے پولیسنگ کے انداز کو سرنو تشکیل دینے پر زور
عظمیٰ نیوزسروس
رائے پور//وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میںرائے پور چھتیس گڑھ میں منعقدہ پولیس سربراہان کی سہ روزہ کل ہند کانفرنس اختتام پذیر ہوگئی ۔کانفرنس میں وژن 2047پولیسنگ روڈمیپ، انسداد ملی ٹینسی رجحانات، خواتین کے تحفظ، مفرور مجرموں کی تلاش اور فارنسک اصلاحات سمیت قومی سلامتی ترجیحات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس سہ روزہ کانفرنس کا موضوع تھا ’وکست بھارت: سلامتی کے زاویے‘۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے پیشہ ورانہ مہارت، حساسیت اور جوابدہی کو بڑھا کر پولیس کے بارے میں،خصوصاً نوجوانوں کے درمیان عام تاثر کو تبدیل کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے شہری علاقوں اور سیاحتی مقامات پر حفاظتی نظام کو مضبوط بنانے کی ضرورپر زور دیا۔ انہوں نے حال ہی میں نافذ کردہ بھارتیہ نیائے سنہیتا، بھاتیہ ساکشیہ ادھینیم، اور بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہیتا جیسے قوانین کے بارے میں عوامی سطح پر بیداری عام کرنے پر بھی زور دیا جنہوں نے نوآبادی دور کے فوجداری قوانین کی جگہ لی ہے۔وزیر اعظم نے ریاستی اور مرکز کے زیر انتظام پولیس اور وسیع تر انتظامیہ کو ہدایت دی کہ وہ غیر آباد جزیروں کو مربوط کرنے کے لیے اختراعی حکمت عملی اپنائیں، نیٹ گرڈ کے تحت مربوط ڈیٹا بیس کا موثر استعمال کریں، اور قابل عمل انٹیلی جنس پیدا کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کے ذریعے ان نظاموں کو جوڑیں۔ اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ فارنسک کے بہتر استعمال سے فوجداری نظام انصاف کو مزید تقویت ملے گی انہوں نے یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں کی حوصلہ افزائی کرنے پر زور دیا کہ وہ پولیس تفتیش میں فرانزک کے استعمال پر کیس اسٹڈیز شروع کریں۔انہوں نے کالعدم تنظیموں کی باقاعدہ نگرانی کے لیے ایک نظام کے قیام، بائیں بازو کی انتہا پسندی سے نجات حاصل کرنے والے علاقوں کی مجموعی ترقی کو یقینی بنانے اور ساحلی سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے اختراعی ماڈلز اپنانے کی اہمیت کا اعادہ کیا۔ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ منشیات کے استعمال سے نمٹنے کے لیے مکمل حکومت کے نقطہ نظر کی ضرورت ہے، جس میں نفاذ، بحالی اور کمیونٹی کی سطح پر مداخلت کی ضرورت ہے۔کانفرنس میں قومی سلامتی کے وسیع تر معاملات پر گہرائی سے غور و خوض کیا گیا۔ وژن 2047کے تئیں پولیسنگ کے طویل المدتی روڈ میپ، انسدادملی ٹینسی اور انسداد بنیاد پرستی میں ابھرتے ہوئے رجحانات، خواتین کی حفاظت کو بڑھانے کے لیے ٹیکنالوجی سے مستفید ہونے، بیرون ملک مقیم ہندوستانی فراریوں کو واپس لانے کے لئے حکمت عملی، اور مؤثر تفتیش اور قانونی کارروائی کو یقینی بنانے کےلئے فارنسک صلاحیتوں کو مضبوط بنانے پر بات چیت ہوئی۔وزیر اعظم نے مضبوط تر تیاری اور بہتر تال میل کی ضرورت کو اجاگر کیا، اور پولیس کے سربراہان سے اپیل کی کہ وہ سمندری طوفانوں، سیلاب اور دیگر قدرتی ہنگامی صورتحال مثلاً جاری سمندری طوفان دِتواہ جیسی آفات سے نمٹنے کے لیے مؤثر انتظام کاری کے لیے میکانزم قائم کریں۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ فعال منصوبہ بندی، ریئل ٹائم تعاون، فوری ردعمل، اور مکمل حکومت کا نقطہ نظر، یہ تمام تر چیزیں اس طرح کی صورتحال میں زندگیوں کے تحفظ اور کم از کم رخنہ اندازی کو یقینی بنانے کے لیے لازمی ہیں۔وزیر اعظم نے پولیس قیادت پر زور دیا کہ وہ ایک ترقی پذیر ملک کی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے پولیسنگ کے انداز کو از سر نو تشکیل دیں تاکہ ملک ایک وکست بھارت بننے کی راہ پر گامزن ہو۔وزیراعظم نے انٹیلی جنس بیورو کے افسران میں ممتاز خدمات کیلئے پریزیڈنٹس پولیس میڈلز تقسیم کیے۔ انہوں نے شہری پولیسنگ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے تین شہروں کو بھی ایوارڈس پیش کیے۔ یہ ایوارڈ شہری پولیسنگ میں اختراع اور بہتری کو فروغ دینے کیلئے پہلی مرتبہ شامل کیا گیا ہے۔اس کانفرنس میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، قومی سلامتی مشیراجیت ڈووال، وزرائے مملکت برائے امور داخلہ، مرکزی داخلہ سکریٹری نے شرکت کی۔ تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ڈی جی پی اور آئی جی پی حضرات کے علاوہ سی اے پی ایف اور مرکزی پولیس کی تنظیموں کے سربراہان بھی اس کانفرنس میں شرکت کیلئے حاضر ہوئے، جبکہ مختلف عہدوں پر فائز ملک کے 700سے زائد افسران نے ورچووَل طریقے سے اس کانفرنس میں شرکت کی۔