یو این آئی
نئی دہلی//وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ آج ملک شہد کی پیداوار میں نئے ریکارڈ قائم کر رہا ہے اور ملک میں شہد کی مٹھاس بڑھنے کے ساتھ ساتھ کسانوں کی آمدنی بھی بڑھ رہی ہے۔اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام من کی بات میں مودی نے کہا کہ 11سال پہلے ملک میں شہد کی پیداوار 76ہزار ٹن تھی، جو اب بڑھ کر ڈیڑھ لاکھ ٹن سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔ پچھلے چند برسوں میں شہد کی برآمدات بھی تین گنا سے زیادہ ہو چکی ہیں۔ ہنی مشن پروگرام کے تحت کھادی گرام ادیوگ نے بھی 2.25 لاکھ سے زائد شہد کی مکھیوں کے چھتے لوگوں میں تقسیم کیے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ اس سے ہزاروں لوگوں کو روزگار کے نئے مواقع ملے ہیں۔ ملک کے مختلف حصوں میں شہد کی مٹھاس بڑھ رہی ہے اور یہی مٹھاس کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کر رہی ہے۔انہوں نے جموں و کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں ون تلسی یعنی سلائی کے پھولوں سے بننے والے سفید شہد، جسے رام بن سلائی ہنی کہا جاتا ہے، کو جی آئی ٹیگ ملنے کا ذکر کیا۔ جنوبی کنڑا ضلع کے پتور کی جنگلی نباتات سے تیار شہد کا حوالہ دیتے ہوئے مودی نے کہا کہ اب یہ شہد برانڈڈ پروڈکٹ کی شکل میں دیہی علاقوں سے شہروں تک پہنچ رہا ہے اور اس اقدام سے ڈھائی ہزار سے زیادہ کسانوں کو فائدہ ملا ہے۔کیرالہ کے ہی تمکور ضلع میں شیوگنگا کالنجیا نامی تنظیم کے بارے میں وزیراعظم نے بتایا کہ یہ تنظیم ہر رکن کو آغاز میں دو بی باکس دیتی ہے۔ اس طرح اس تنظیم نے کئی کسانوں کو اپنے مشن سے جوڑ دیا ہے۔ اب اس تنظیم سے وابستہ کسان مل کر شہد نکالتے ہیں، بہترین پیکجنگ کرتے ہیں اور اسے مقامی بازار تک پہنچاتے ہیں جس سے انہیں لاکھوں کی آمدنی ہو رہی ہے۔انہوں نے ناگالینڈ کے چوکلانگن گائوں میں خِیامنی۔یانگن قبیلے کا ذکر کیا اور کہا کہ وہاں شہد کی مکھیاں درختوں پر نہیں بلکہ اونچی چٹانوں پر اپنے چھتے بناتی ہیں، اس لیے شہد نکالنے کا کام بہت خطرناک ہوتا ہے۔ وہاں کے لوگ شہد کی مکھیوں سے پہلے نرمی سے بات کرتے ہیں، ان سے اجازت طلب کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ آج وہ شہد لینے آئے ہیں، اس کے بعد ہی شہد حاصل کرتے ہیں۔