راجا ارشاد احمد
گاندربل//ضلع گاندربل میں حال ہی میں ضلع انتظامیہ کی جانب سے مسماری مہم کے دوران متعدد تعمیرات زمین بوس کی گئیں، جس کی وجہ سے عوامی حلقوں نے اس مسماری مہم کے بارے میں شک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے نالہ سندھ کے دونوں اطراف پچھلے دس پندرہ برسوں سے کی گئی تعمیرات کا احتساب کرنے کی مانگ کی جارہی ہے۔ جہاں ایک طرف غریب اور بغیر کسی اثرو رسوخ کے افراد کے خلاف فوری کارروائی انجام دی جارہی ہے وہیں دوسری طرف اثر رسوخ والے افراد دو منزلہ، تین مزلہ تعمیرات دھڑا دھڑ کھڑا کررہے ہیں جن کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی ہے۔ ضلع گاندربل میں بال تل سے لیکر شادی پورہ تک آبادی کے بیچوں بیچ نالہ سندھ بہتا ہے جس کی خوبصورتی اور قدرتی وسائل کو بچانے کے لیے جموں کشمیر ہائی کورٹ نے ایک حکمنامہ جاری کیا ہے جس کی رو سے نالہ سندھ کے دونوں اطراف 90 میٹر کے حدودمیں کوئی تعمیرات کھڑا کرنے پر روک لگا دی گئی ہے، تاہم پچھلے دس ،بیس سال سے نالہ سندھ کے اطراف میں واقع علاقوں جن میں نونر، وائل ،وسن، ڈاکٹرز کالونی پرنگ،مامر، کنگن،یچھ ہامہ،گنہ ونہ، سرفراو،ستھرینہ،رہزن، سونہ مرگ سمیت دیگر متعدد علاقوں میں ہائی کورٹ کے حکمنامہ کی دھجیاں اڑا کر غیر قانونی تعمیرات کھڑی کی گئیں۔ حال ہی میں منہدم کی گئی تعمیرات کے بارے میں ضلع انتظامیہ کے اعلی حکام نے بتایا کہ یہ کارروائی عدالتی حکمنامہ کے مطابق کی گئی ہے جس میں نالہ سندھ کے 90 میٹر کے حدود میں ہر طرح کی تعمیرات پر پابندی عائد ہے۔ اوراس حکم کے تحت نئے بنائے گئے مکانات، ڈھانچہ اور ہوٹلوں کی عمارتوں کو مسمار کر دیا گیا۔اس مسماری مہم کے بارے میں گاندربل کے متعدد عوامی وفود نے بتایا کہ اگرچہ ضلع انتظامیہ کی جانب سے کی گئی مسماری مہم نالہ سندھ کی شان رفتہ بحال رکھنے کے لئے ضروری تھی، تاہم اہم اور بہت ضروری سوال یہ ہے کہ جب یہ تعمیرات کھڑی کی جارہی تھی تب ضلع انتظامیہ بالخصوص محکمہ فلڈ کنٹرول، محکمہ ریونیو، محکمہ فشریزخاموش تماشائی کیوں بن جاتے ہیں کیونکہ راتوں رات یہ تعمیرات کھڑی نہیں کی جاتی ہیں۔ ان میں ہفتوں مہینوں تو لگتے ہیں محکموں سے اجازت نامہ حاصل کرنے میں ،جبکہ ہائی کورٹ کے احکامات کو تب بالائے طاق رکھ دیا جاتا ہے، تب تک کیوں کوئی کارروائی نہیں کی جاتی۔ ان سوالات کا جواب دینا بہت ضروری ہے کیونکہ ان تعمیرات کو کھڑی کرنے کے دوران ہر فرد بنک سے قرضہ، زمین جائیداد فروخت کرکے کچھ کمانے کے لیے یہ تعمیرات مکمل کرتے ہیں، جسے ضلع انتظامیہ پلک جھپکنے میںزمین بوس کردیتے ہیں۔پرنگ کنگن کے مقامی شہری سعید عرفان احمد نے اس بارے میں کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ضلع گاندربل میں رقبہ کے لحاظ سے بہت کم اراضی ہے۔ ساتھ ہی نالہ سندھ جو پورے ضلع گاندربل کے بیچوں بیچ سے بہتا ہے، آبادی بڑھ رہی ہے، ایسے میں کسی بھائی کے حصے میں نالہ سندھ کے کنارے پر ملکیتی اراضی آتی ہے، وہ تو مجبور ہے اپنا آشیانہ نالہ سندھ کے کنارے تعمیر کرنے کیلئے جسے پہلے تعمیر کرنے کی اجازت ملتی ہے اور پھر مرضی کے مطابق زمین بوس کردیا جاتا ہے جو کہ سراسر زیادتی ہے۔ ہم ہائی کورٹ سے مودبانہ گزارش کرتے ہیں کہ جو حکمنامہ جاری کیا گیا ہے ،اس پر نظرثانی کی جائے تاکہ کسی غریب کو آشیانہ بنانے میں دقت نہ آئے۔