عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/سی پی آئی (ایم) کے رہنما محمد یوسف تاریگامی نے ملک کے مختلف حصوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ اور محنت کشوں کو مبینہ طور پر درپیش ہراسانی کے ماحول پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی میں ہونے والے بھیانک دھماکے میں ملوث عناصر کو ضرور انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے، لیکن اس کے بہانے بے گناہ شہریوں کو پریشان کرنا ناقابلِ قبول ہے۔
تاریگامی نے کہا کہ مختلف ریاستوں میں زیرِ تعلیم نوجوانوں کے درمیان خوف کا ماحول پیدا ہوگیا ہے۔ طلبہ کو ایسے معاملات میں گھسیٹنا نہیں چاہیے۔ ملک کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کے لیے تحفظ اور اعتماد کا ماحول یقینی بنائے، نہ کہ انہیں دھونس یا شبہ کی فضا میں دھکیل دے۔
انہوں نے کہا کہ ایسا ماحول تعلیم اور روزگار کے لیے سازگار حالات کو متاثر کرتا ہے، جبکہ نوجوانوں کو خصوصی طور پر حوصلہ افزائی، استحکام اور اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کے مطابق، جہاں ایک طرف ملی ٹینسی میں ملوث افراد کے لیے جگہ کم ہونی چاہیے، وہیں یہ بھی ضروری ہے کہ بے گناہ شہریوں کو بے جا ہراسانی اور ذلت سے بچایا جائے۔تاریگامی نے زور دیا کہ دلوں کو جیتنے کی کوششیںکی جائے ۔بے قصور لوگوں کو دیوار سے لگانا کبھی بھی مفید ثابت نہیں ہوا۔ مایوسی ہمیشہ نقصان دہ ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ بے ترتیب کارروائیاں صرف دوری اور بداعتمادی بڑھاتی ہیں۔تاریگامی نے مطالبہ کیا ہے کہ دہلی واقعے کے بعد مبینہ طور پر ہونے والی اندھا دھند گرفتاریوں کا سلسلہ بند کیا جائے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چاہیے کہ وہ طلبہ، محنت کشوں اور عام شہریوں سمیت کسی بھی بے گناہ فرد کو خوف یا شبہ کا شکار نہ ہونے دیں۔
ملوث افراد کو سزا ملے، مگر ملک بھر میں زیرِ تعلیم طلبہ و محنت کشوں کی ہراسانی بند کی جائے: تاریگامی