عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر //پبلک سیفٹی ایکٹ جو اصل میں لکڑی اسمگلنگ کو روکنے کیلئے بنایا گیا تھا، اب لوگوں کے خلاف غلط استعمال کا آلہ بن گیا ہے کی بات کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے ممبر پارلیمنٹ آغا روح اللہ نے کہا کہ ریاست کی واپسی کے بغیر کوئی بامعنی قانونی تبدیلی حاصل نہیں ہو سکتی۔ اننت ناگ میں ایک تقریب کے حاشیہ پر میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمنٹ آغا روح اللہ نے کہا کہ پبلک سیفٹی ایکٹ جو اصل میں لکڑی کی اسمگلنگ کو روکنے کیلئے بنایا گیا تھا، اب لوگوں کے خلاف غلط استعمال کا آلہ بن گیا ہے۔روح اللہ نے یاد دلایا کہ نیشنل کانفرنس نے اپنے منشور میں جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت بحال ہونے کے بعد پی ایس اے کو منسوخ کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی واپسی کے بغیر کوئی بامعنی قانونی تبدیلی حاصل نہیں ہو سکتی۔روح اللہ نے کہا’’پی ایس اے لکڑی کی اسمگلنگ کو روکنے کے لیے بنایا گیا تھا لیکن آج اس کا لوگوں کے خلاف غلط استعمال کیا جاتا ہے۔ نیشنل کانفرنس نے ریاست کی بحالی کے بعد پی ایس اے کو ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ صرف ریاست کا درجہ حاصل کرکے ہی ہم حقیقی قانونی تبدیلی لا سکتے ہیں‘‘۔انہوں نے قیادت پر بااختیار بنانے کی بنیادی لڑائی کو نظر انداز کرنے کا بھی الزام لگایا۔ انہوں نے کہا ’’ لوگوں نے بااختیار بنانے اور احتساب کے لیے ووٹ دیا، لیکن توجہ ہٹ گئی ہے۔ ہمیں اپنے اختیارات دوبارہ حاصل کرنے اور کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے مل کر لڑنا چاہیے۔ ‘‘