اشرف چراغ
کپوارہ//حالیہ تباہ کن بارشو ں کے دوران ہماچل پردیش کے کلو شہر میں مٹی کا تو د گر جانے کے نتیجے میں 6کشمیری زندہ دب گئے جن میں وارسن کرالہ پورہ کپوارہ کا ایک نوجوان بھی شامل ہے ۔20سالہ وقار رشید میر ولد عبد الرشید میں ساکن وارسن کرالہ پورہ کئی ماہ سے ہماچل کے کلو شہر میں شال پھیری کا کام کرتا تھا اور وہا ں ایک عارضی رہائش گاہ میں مقیم تھے ۔حالیہ تباہ کن بارشوں کے نتیجے میں وہاں مٹی کا تودہ گر آیا اور جس میں ایک مکان دب گیا اور 6کشمیری زندہ دب گئے ان میں وقار رشید میر میں اپنی جان گنوا بیٹھا ۔وقار کے جا ں بحق ہونے کی خبر جب ان کے اہل خانہ نے سننی تو ان پر قیامت ٹوٹ پڑی اور گزشتہ5روز سے ان کے گھر میں ماتم کا سماں ہے جبکہ پورے علاقہ سوگوار ہے ۔اتوار کے روز جب وقار کی نعش کو ان کے آبائی گائو ں وارسن پہچائی گئی تو ہا ں سینکڑوں لوگ جمع ہوئے جبکہ علاقہ کے لوگ نڈھال تھے ۔وقار کے نماز جنازہ میں ہزارو ں لوگو ں نے شرکت کی اور انہیں پر نم آنکھو ں سے سپرد خاک کیا گیا ۔اس دوران کلو ہماچل سے گزریال کرالہ پورہ کے ایک شہری ریاض احمد نے بتایا کہ حالیہ بارشو ں کے نتیجے میں 6کشمیری مٹی کے تودے گر آنے کے نتیجے میں زندہ دب گئے جس کی وہ سے وہ کئی روز سے پریشان ہیں اور کئی مہلوکین کی لاشوں کو ملبے سے نکالا اور اپنے گھرو ں کو روانہ کیا گیا تاہم وہ بھی اپنا گھر آنا چاہتے ہیں لیکن ابھی حالات ساز گار نہیں ہیں جس کی وجہ سے وہ سخت پریشان ہیں ۔انہو ں نے جمو ں و وکشمیر سرکار سے مطالبہ کیا کہ وہ کلو ہماچل سے کشمیری کو یہا ں سے نکالنے کے لئے اپنا رول ادا کریں کیونکہ ان کے گھر والے سخت پریشان ہیں ۔