یواین آئی
نئی دہلی//وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر وزیر اعظم نریندر مودی کی سربراہی میں منعقدہ اہم میٹنگ میں الیکشن کمیشن کے کمشنروں کے دو خالی عہدوں کے لیے دو ناموں پر اتفاق قائم ہو گیا اور جلد ہی ان کی تقرری کے باضابطہ احکامات جاری کیے جانے کا امکان ہے۔ اس میٹنگ میں وزیر اعظم کے علاوہ وزیر داخلہ امت شاہ اور لوک سبھا میں کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری موجود تھے۔
میٹنگ کے بعد نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے چودھری نے بتایا کہ حکومت کو کمیٹی میں اکثریت حاصل ہے اور پنجاب سے سکھبیر سنگھ سندھو اور کیرالہ سے گیانیش کمار گپتا کو الیکشن کمشنر کے طور پر منتخب کیا گیا ہے۔ ان کی تقرری کے احکامات جلد ہی جاری ہونے کا امکان ہے۔بات چیت کے دوران ادھیر رنجن چودھری نے الیکشن کمشنروں کے انتخاب کی کارروائی پر بھی سوالات اٹھائے۔ کانگریس لیڈر نے کہا، ‘ان (حکومت) کے پاس اکثریت ہے۔ اس سے پہلے وہ مجھے 212 نام دیے تھے۔ لیکن میٹنگ سے 10 منٹ پہلے انہوں نے مجھے دوبارہ صرف چھ نام بتائے۔ میں جانتا ہوں کہ چیف جسٹس آف انڈیا (کمیٹی میں) نہیں ہیں۔ حکومت نے ایسا قانون بنایا ہے کہ چیف جسٹس مداخلت نہیں کر سکتے اور مرکزی حکومت اپنے پسندیدہ لوگوں کا انتخاب کر سکتی ہے”۔انہوں نے کہا کہ”میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ یہ من مانا فیصلہ ہے لیکن اس کے لیے جو طریقہ کار اختیار کیا جارہا ہے اس میں کچھ خامیاں ہیں”۔واضح رہے کہ الیکشن کمشنر ارون گوئل کے اچانک استعفیٰ کے بعد انتخابی کمیشن میں صرف چیف الیکشن کمشنر راجیو کمار ہی رہ گئے تھے۔ چونکہ بقیہ دو کمشنروں کے عہدے خالی ہیں ۔