یو این آئی
نئی دہلی// سپریم کورٹ نے 2002 کے گجرات فسادات کے دوران بلقیس بانو کی اجتماعی عصمت دری اور ان کے خاندان کے سات افراد کے قتل کے معاملے میں عمر قید کی سزا پانے والے 11 مجرموں کو 2022 میں قبل از وقت رہائی کے گجرات حکومت کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے پیر کو منسوخ کر دیا۔
عدالت عظمیٰ نے ملزمان کو دو ہفتوں میں سرنڈر کرنے کا حکم دیا ہے۔
جسٹس بی وی ناگرتنا اور جسٹس اجل بھویان کی بنچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اس معاملے میں سزا معافی کے معاملے پر فیصلہ لینا گجرات حکومت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا، اس لیے معافی کے فیصلے کو منسوخ کیا جاتا ہے۔
بنچ نے کہا کہ اس کیس کی سماعت مہاراشٹر کی عدالت میں ہوئی تھی، اس لیے معافی کا فیصلہ لینا وہاں کی حکومت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔
گجرات حکومت کی 1992 کی معافی کی پالیسی کے تحت، باکا بھائی ووہانیہ، جسونت نائی، گووند نائی، شیلیش بھٹ، رادھیشیام شاہ، وپن چندر جوشی، کیشر بھائی ووہانیا، پردیپ موڈھواڈیا، راجو بھائی سونی، متیش بھٹ اور رمیش چندنا کو 15 اگست 2022 کو گودھرا سب جیل سے رہا کردیا گیاتھا۔ رہائی کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا۔
عدالت عظمیٰ نے بلقیس کی درخواست اور دیگر کی درخواستوں پر سماعت مکمل ہونے کے بعد 12 اکتوبر 2023 کو اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔
سپریم کورٹ نے سماعت کے دوران کہا تھا کہ جرم ‘خوفناک’ ہے لیکن وہ ‘جذبات سے متاثر’ نہیں ہوگی اور صرف قانون کی بنیاد پر کیس کا فیصلہ کرے گی۔
عدالت نے تب یہ بھی کہا تھا کہ گجرات حکومت اس معاملے میں اپنے دائرہ اختیار کا استعمال کرے گی کیونکہ وہاں جرم ہوا تھا۔