عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی //مرکزی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد جموں و کشمیر کے لوگوں کی حفاظت کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ سالانہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر میں امن و استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے حفاظتی اقدامات کو مضبوط کیا گیا ہے۔ جموں و کشمیر میں جموں و کشمیر کے سیکورٹی منظر نامے میں نمایاں بہتری آئی ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے تمام سیکورٹی ایجنسیاں دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑ رہی ہیں۔ ہڑتالیں اور پتھرائو کے واقعات قصہ پارینہ بن گئے ہیں، اب یہ یہ ماضی کا حصہ ہیں۔دہشت گردوں کی سپورٹ اور انفارمیشن سسٹم کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے 360 ڈگری سیکورٹی میکنزم کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔اس وقت کے مقابلے جب جموں و کشمیر میں دہشت گردی کی لعنت شروع ہوئی تھی، حالیہ دنوں میں سب سے کم واقعات اور اموات ہوئی ہیں۔مرکزی وزیر داخلہ نے سیکورٹی گرڈ کے کام کاج اور سیکورٹی سے متعلق مختلف پہلوں کا کئی بار جائزہ لیا، اس بات کا اعادہ کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت ہند دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کے تئیں پابند عہد ہے۔
ہلاکتیں
رپورٹ کے مطابق2018 میں دہشت گردی کے 228 واقعات ہوئے جبکہ2023 میں صرف44 واقعات ہوئے۔مسلح جھڑپیں 2018میں189 اور 2023میں48 ہوئیں۔2018میں 55شہری مارے گئے، جبکہ 2023میں صرف 13، 2018میں91سیکورٹی اہلکار اور 2023میں 26مارے گئے۔
لا اینڈ آرڈر
جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد بندھ اور تشدد ماضی کی بات بن گئی ہے۔ جموں و کشمیر میں پتھرا ئواور ہڑتالوں میں زبردست بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔2018 میںمنظم پتھرائو کے واقعات1221 ہوئے جبکہ 2023میں کوئی نہیں۔2018میںمنظم ہڑتال 52بار ہوئیں، جبکہ 2023میں کوئی نہیں۔
دفعہ 370
جموں و کشمیر پولیس کے متعدد جوانوں کی شہادت، جنہوں نے ملی ٹینٹوں سے لڑتے ہوئے اور معصوم شہریوں کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، اس بات کا ثبوت ہے کہ کشمیر اور اس کے عوام امن کے لیے پرعزم ہیں۔مرکزی وزیر داخلہ نے جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے نے ثابت کر دیا کہ آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کا فیصلہ مکمل طور پر آئینی تھا۔امت شاہ نے ایریا ڈومینیشن پلان، زیرو ٹیرر پلان، امن و امان کی صورتحال، یو اے پی اے سے متعلق معاملات اور سیکورٹی سے متعلق دیگر امور کا بھی جائزہ لیا۔آرٹیکل 370 کو ہٹا کر مودی نے پہاڑی برادریوں، درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائل، خواتین اور بزرگ شہریوں کو ریزرویشن کا حق دیا ۔جموں و کشمیر میں پچھلی حکومتوں کے دور میں جمہوریت صرف 80-85 افراد تک محدود تھی اور جمہوریت پر 3 خاندانوں نے قبضہ کر لیا تھا، ان لوگوں نے پنچایتی انتخابات نہیں ہونے دیئے، پنچ-سرپنچ منتخب ہوئے اور تحصیل اور ضلع پنچایتیں نہیں بننے دیں۔
ٹورازم
جموں و کشمیر میں سیاحت کے شعبے نے سال 2022 میں بے مثال ترقی دیکھی، کیونکہ 1.88 کروڑ سے زیادہ سیاحوں نے جموں و کشمیر کے UT کا دورہ کیا ہے۔ دسمبر 2023 تک 2 کروڑ سے زیادہ سیاح آچکے ہیں۔G-20 کے سیاحتی ورکنگ گروپ کی تیسری میٹنگ 22 سے 24 مئی 2023 کو سری نگر میں منعقد ہوئی۔ سیاحت کو فروغ دینے کے لیے مختلف پالیسیاں یعنی۔ فلم پالیسی، ہاس بوٹ پالیسی اور ہوم اسٹے پالیسی شروع کی گئی ہے۔ ہوم اسٹے پالیسی کے تحت 10040 بستروں کی گنجائش والے 1485 ہوم اسٹے رجسٹر کیے گئے ہیں۔ صحت سکیم کے تحت 8.87 لاکھ استفادہ کنندگان نے فائدہ اٹھایا اور 1325 کروڑ کی رقم کے دعووں کی ادائیگی کی گئی۔جموں ملک کا واحد شہر ہے جس کے ایک شہر میں IIT، IIM اور AIIMS ہیں۔براہ راست بھرتی میں دستیاب اسامیوں میں 15% کی حد تک افقی ریزرویشن ،پولیس خدمات میں نان گزیٹیڈ رینک میں خواتین امیدواروں کے لیے فراہم کی گئی ہے۔سال میں مختلف کھیلوں کی سرگرمیوں میں نوجوانوں کی 62 لاکھ سے زیادہ شرکت دیکھی گئی۔ہائیڈرو پاور جنریشن کے تحت 4134 میگاواٹ کی کل صلاحیت کے ساتھ 5 میگا پراجیکٹس کی ترقی کے لیے ایم او یو پر دستخط کیے گئے۔جموں و کشمیر میں تین دہائیوں کے عرصے کے بعد فلم تھیٹر کھلا۔جموں اور سرینگر میں ای بس سروس شروع کی گئی ہے۔
ملی ٹینٹ حملوں اور دراندازی کے واقعات میں کمی | ہڑتال اورپتھراؤ قصۂ پارینہ