عظمیٰ ویب ڈیسک
نئی دہلی// پارلیمنٹ سے 78 اپوزیشن اراکین کو معطل کیے جانے کے ایک دن بعد، منگل کو کارروائی میں خلل ڈالنے پر 49 لوک سبھا ممبران کو ایوان سے معطل کر دیا گیا ہے۔
منگل کو معطل کیے گئے ممبران پارلیمنٹ میں نیشنل کانفرنس کے فاروق عبداللہ، کانگریس لیڈر ششی تھرور اور منیش تیواری شامل ہیں۔
انڈیا بلاک کے اراکین پارلیمنٹ 13 دسمبر کو پارلیمنٹ میں سیکورٹی چوک پر وزیر داخلہ امت شاہ سے بیان کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
پارلیمنٹ میں سیکورٹی میں کوتاہی کے معاملے پر وزیر داخلہ کے بیان کا مطالبہ کرتے ہوئے اپوزیشن ارکان نے منگل کو مسلسل چوتھے روز راجیہ سبھا میں نعرے بازی کی اور ہنگامہ کیا جس کی وجہ سے ایوان کی کارروائی پہلے 12 بجے اورپھر 2 بجے تک کے لئے ملتوی کرنی پڑی، جس کے باعث وقفہ صفر اور وقفہ سوال کی کارروائی نہ ہوسکی۔
صبح کے التوا کے بعد جیسے ہی چیئرمین جگدیپ دھنکھڑ 12 بجے ایوان میں پہنچے تو اپوزیشن ارکان نے اپنے مطالبات کو زورشور سے اٹھایا۔ چیئرمین نے ارکان کے طرز عمل پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایوان میں ارکان کا طرز عمل انتہائی نچلی سطح پر آگیا ہے اور گراوٹ کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حیرت کی بات ہے کہ ایوان کے ایک سینئر رکن دوسرے رکن کی ویڈیو گرافی کر رہے ہیں اور چیئر کی نقل کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی شرمناک حرکت ہے۔ اس دوران اپوزیشن ارکان زور و شور سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہے۔
اس دوران چیئرمین نے کارروائی 2 بجے تک ملتوی کر دی۔
قبل ازیں صبح بھی اپوزیشن ارکان کے ہنگامہ اور ایوان میں بدنظمی کے پیش نظر چیئرمین نے کارروائی 12 بجے تک ملتوی کر دی تھی۔ جس کے باعث وقفہ صفر اور وقفہ سوال کی کارروائی نہ ہوسکی۔
پارلیمنٹ کی سکیورٹی میں کوتاہی پر اپوزیشن گزشتہ ہفتے سے ایوان میں ہنگامہ کررہا ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اس مسئلہ پر ایوان میں بحث ہونی چاہئے اور وزیر داخلہ امت شاہ کو بیان دینا چاہئے۔ دوسری جانب چیئرمین نے کہا ہے کہ سیکیورٹی لیپس کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطح کمیٹی تشکیل دی گئی ہے اور معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ اس معاملے پر تعطل کے باعث گزشتہ ہفتے دو دن تک کوئی قانون سازی کا کام نہیں ہو سکا جب کہ پیر کو زیرو آور اور وقفہ سوال نہیں ہوا۔ تاہم ہنگامہ آرائی کے درمیان حکومت نے جموں و کشمیر سے متعلق دو بلوں کو منظور کیا۔ ایوان میں ہنگامہ کرنے اور غیر مہذب طرزعمل کے لئے 46 ارکان کو راجیہ سبھا سے بھی معطل کر دیا گیا ہے۔ ان میں سے 12 ارکان کے طرز عمل کا معاملہ ایوان کی استحقاق کمیٹی کو بھیجا گیا ہے جو تین ماہ میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ کمیٹی کی رپورٹ آنے تک ان ارکان کی معطلی برقرار رہے گی۔ باقی 34 ارکان کو اجلاس کی بقیہ مدت کے لیے معطل کر دیا گیا ہے۔