یو این آئی
غزہ // اسرائیلی فورسز ٹینکوں سمیت غزہ کے سب سے بڑے اسپتال الشفاء کے ایک حصے میں داخل ہوگئی ہیں، جس سے مریضوں، طبی عملے اور پناہ لینے والے افراد میں خوف وہراس پیدا ہوگیا ہے ، اسپتال میں ہزاروں مریض اور عام شہری پناہ لیے ہوئے ہیں۔ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے اسپتال میں خوف ہراس پھیلا دیا ہے ، اب کچھ بھی ہو ہم الشفا اسپتال نہیں چھوڑیں گے ، مریضوں کیساتھ ہیں ، ہم مرگئے تو جنت میں ملیں گے ۔عینی شاہد نے بتایا ہے کہ اسپتال کے اندر 6اسرائیلی فوج کے ٹینک اور 100سے زائد اسرائیلی فوجی دیکھے ہیں، اسرائیلی فوج ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کے مرکزی گیٹ سے داخل ہوئے ۔چیف الشفا اسپتال نے کہا کہ اسرائیلی فورسز اسپتال کے سرجیکل اور ایمرجنسی عمارتوں میں بھی داخل ہوئیں اور اسپتال کی بیسمنٹ میں تلاشی لے رہے ہیں۔اسرائیلی فورسز کا دعویٰ ہے کہ اسپتال کے نیچے حماس کا خفیہ ٹھکانہ ہے تاہم حماس نے اسپتال کو کمانڈ سینٹر کے طور پر استعمال کرنے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ الشفا اسپتال پر حملہ اسرائیلی فورسز کی ناکامی کو ثابت کرتا ہے اور اسرائیلی دعویٰ قتل عام کو درست قرار دینے کی کوشش ہے ۔دوسری جانب وائٹ ہاوس کا کہنا ہے کہ ہم اسپتال پربمباری کی حمایت نہیں کرتے اورنہ ہی اسپتال مسلح لڑائی نہیں دیکھناچاہتے ۔خیال رہے شمالی غزہ کے تمام اسپتالوں پر غاصب اسرائیلی فوج کا قبضہ ہوچکا ہے ۔ اسپتالوں میں علاج کی سہولتیں ختم ہونے کے باعث زندگیاں بچانے کا عمل رک گیا ہے ، مریض اور زخمی بے یار ومددگار ہیں۔ ہر گھنٹے نومولود اور مریض انتقال کر رہے ہیں۔ اسپتال قبرستان بن چکے ہیں جہاں میتوں کے ڈھیر لگے ہیں۔
پارلیمنٹ سمیت دیگر اداروں پر قبضے کا دعویٰ
یو این آئی
غزہ//اسرائیلی فوج نے غزہ میں حماس کے زیرِ انتظام پارلیمنٹ اور دیگر سرکاری اداروں پر قبضے کا دعویٰ کر دیا۔اسرائیلی افواج کی جانب سے فلسطین میں تیسرے بڑے پناہ گزین کیمپ الشاطئی پر بھی قبضے کا دعویٰ کیا گیا تاہم حماس نے اسرائیلی فوج کے دعوے مسترد کر دیے ۔حماس کا کہنا تھا کہ خالی اور پہلے سے تباہ کی گئی عمارتوں پر خیالی قبضے کا اسرائیلی دعویٰ فتح ظاہر کرنے کی ناکام کوشش ہے ادھراقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوتریس نے ایک بار پھر انسانیت کے نام پر فوری جنگ بندی کی اپیل کردی ہے جبکہ حماس کی جانب سے پانچ دن کی جنگ بندی کے بدلے 70 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرنے ی پیشکش بھی کی گئی ہے ۔دوسری جانب امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ اسرائیل کو غزہ کے الشفا اسپتال کو بچانا ہوگا، اس معاملے پر اسرائیلی حکام سے رابطے میں بھی ہوں۔امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے یرغمالیوں کی جلد رہائی کی بھی امید ظاہر کی گئی۔پیر کو یہ خبر سامنے آئی تھی کہ اسرائیلی فوج غزہ کے سب سے بڑے الشفا اسپتال کے دروازوں تک پہنچ گئی ہے۔
امریکی اہلکاروں کا بائیڈن کو احتجاجی خط
یو این آئی
واشنگٹن//غزہ میں جاری فلسطینیو ں پر اسرائیلی مظالم کے خلاف آواز نہ اُٹھانے اور امریکہ کی اسرائیل سے متعلق پالیسز پر پانچ سو سے زائد امریکی اہلکاروں نے بائیڈن کو احتجاجی مراسلہ بھیج دیا۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق خط میں فوری جنگ بندی اور اسرائیل پر زور دے کر فلسطینیوں کے لیے سامان غزہ جانے کی اجازت کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔صدر بائیڈن کو خط لکھنے والوں میں قومی سلامتی، محکمہ انصاف اور ایف بی آئی کے اہلکار بھی شامل ہیں، خط کے متن میں اسرائیلی یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کو رہائی دلوانے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔دوسری جانب امریکہ نے حماس سے وابستہ افراد اور اداروں پر مزید پابندیاں عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی حمایت، حماس اور پی آئی جے کو دہشت گرد سرگرمیوں کے قابل بناتی ہے ۔امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے حماس پر پابندیوں کے تیسرے دور میں فلسطینی اسلامی جہاد کے رہنما اکرم الاجوری کو عالمی دہشت گرد نامزد کر دیا گیا جبکہ پی آئی جے کے عسکری ونگ القدس بریگیڈ کے رہنما بھی لسٹ میں شامل ہیں۔امریکہ نے حماس اور پی آئی جے کو مدد فراہم کرنے پر سات افراد اور دو اداروں کو بھی نامزد کرنے کا اعلان کیا ہے ۔