یو این آئی
غزہ//اسرائیل کی غزہ میں چوبیس گھنٹے سے مسلسل جاری بمباری میں 55 فلسطینی جاں بحق ہوگئے جب کہ مغربی کنارے میں ایک مسجد کو بھی شہید کیا گیا، غزہ کی پٹی کے علاقے خان یونس میں بھی اسرائیل نے فضائی حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں 12 فلسطینی ہلاک اور 40 زخمی ہوگئے۔ اسرائیلی فضائی حملوں میں ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد بڑھ کر 4,651 ہو گئی ہے ۔حماس کے زیر انتظام وزارت صحت نے اتوار کو یہ اطلاع دی۔وزارت نے ایک بیان میں کہا کہ ساحلی علاقے میں 14,245 فلسطینی زخمی ہوئے ۔ بتایا گیا کہ متاثرین میں 1,873 بچے اور 1,023 خواتین شامل ہیں۔وزارت کے ترجمان اشرف الکدرا نے ایک پریس بیان میں کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 266 فلسطینی مارے گئے ۔
اسرائیلی فضائی حملے 7 اکتوبر کو اسرائیلی فوجی اہداف اور قصبوں پر حماس کے بڑے حملے کے بعد شروع ہوئے تھے ، جس میں اب تک اسرائیل میں کم از کم 1400 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔اسرائیل نے ایک بار پھر غزہ کے شمالی علاقوں سے انخلا کے لیے الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا کہ جو شہری جنوبی غزہ منتقل نہیں ہوئے انھیں حماس کا حامی سمجھا جائے گا۔ اسرائیلی فوج نے دھمکی دی کہ شمالی غزہ میں الٹی میٹم کے بعد بھی رہ جانے والے فلسطینی شہریوں کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔ شہری حماس کے لیے انسانی ڈھال نہ بنیں۔ادھر الٹی میٹم مکمل ہونے سے قبل ہی اسرائیل نے غزہ کے پر بمباری جاری رکھی ہوئی ہے اور 24 گھنٹوں میں ہونے والی تازہ بمباری میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 55 ہوگئی۔ اسرائیل کی تازہ بمباری میں زخمیوں کی تعداد 100 سے زائد ہے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں جب کہ اسپتال پر اسرائیلی حملے کے بعد سے طبی سرگرمیاں بھی بند ہیں۔ غزہ میں لاکھوں افراد بجلی، پانی اور خوراک کے بغیر زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ رفح کراسنگ سے صرف 20 ٹرکوں کو امدادی سامان کے ساتھ داخل ہونے کی اجازت دی گئی ہے۔