منظور الٰہی
وادیٔ کشمیر میں موسم سرما کی آمد سے قبل ہی بجلی کا بحران ایک بڑا مسئلہ بن جاتا ہے۔ بجلی کی آنکھ مچولی سے وادی میں صارفین بجلی کو طرح طرح کی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ تا ہے۔ اہلیانِ وادی کو دن رات بجلی کٹوتی کا غیر معمولی نظارہ دیکھنا پڑتا ہے۔اس وقت بجلی سپلائی کی جوصورتحال پائی جاتی ہے وہ حیران کن ہے۔ وادی کے تمام علاقوں کو ہر روز ایک وقت میں پانچ سے سات گھنٹے تک غیر مقررہ بجلی کی کٹوتی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔موجودہ وقت میں بجلی کے بحران کی وجہ کچھ بھی ہو، یہ ایک حقیقت ہے کہ ماضی کی ناقص منصوبہ بندی جموں و کشمیر کے پاور سیکٹر میں خود انحصار نہ ہونے کا ایک بڑا سبب ہے۔
اگرچہ یہاں ایسا نہ ہونے کے لئےبے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ بجلی کے منصوبے ضرورت کے مطابق نہیں لگائے گئےہیں۔ جموں کشمیر میں شہرسرینگر سے لیکر شوپیاں ، پلوامہ ، کولگام ، پہلگام ، کوکرناگ، اوڑی ، ٹیٹوال، کرنا ہ ، گریز بانڈی پورہ کے علاوہ وسطی کشمیر کے بڈگام، گاندربل اور دیگر علاقوں کے ساتھ ساتھ سرینگر اور دیگر قصبہ جات میں ماہ اکتوبر سے ہی بجلی اپنا بوریا بسترہ باندھ کر کہیں گھپائوں میں چلی جاتی ہے اور اہلیانِ وادی کو جب چاہئے اپنے نظر ِکرم سے بہرور کرتی ہے ۔مژھل ،ٹنگڈار،ٹیٹوال اورگریز جیسے دورافتادہ علاقوں میں بھی ماہ اکتوبر سے ہی بجلی کی فراہمی کولیکربحرانی صورتحال پائی جاتی ہے جبکہ میٹراورغیرمیٹر والے علاقوں ،بستیوں اورکالونیوں میں رہنے والے بجلی صارفین کیلئے برقی رَوکی سپلائی کوعملاً شجرممنوعہ بنادیاگیا ہے اور ہر سال ماہِ اکتوبر سے بجلی فراہمی کی جوں کی توں صورتحال برابر جاری رہتی ہے ۔
اہل وادی کیلئے بجلی ایک ایسی شے بن گئی ہے جس کو یہاں کے لوگ سب سے زیادہ چاہتے ہیں۔ تاہم کشمیر میں عام صارفین کوکٹوتی کی لاٹھی سے جیسے ہانکاجاتاہے ،وہ حقوق صارفین کی خلاف ورزی ہے کیونکہ اب وادی کے صارفین مفت بجلی استعمال نہیں کرتے بلکہ وہ اُس سے زیادہ فیس اداکرتے ہیں جتنی کہ اُنھیں بجلی فراہم کی جاتی ہے۔وادی کے اطراف واکناف میں روزانہ لوگ سڑکوں اورشاہراہوں پرنکل کر بجلی کی عدم دستیابی ،عدم فراہمی ،کٹوتی شیڈول ،آنکھ مچولی اورکم وولٹیج کیخلاف صدائے احتجاج بلندکرتے نظرآتے ہیں لیکن کوئی نہ توانکی فریادسُنتاہے اورنہ ہی ان کی شکایات یاتکالیف کاازالہ کرتا ہے۔ دیہی علاقوں میں رہنے والوں کو سب سے زیادہ تکلیف ہوتی ہے۔ سپلائی منٹوں کے لیے آتی ہے اور گھنٹوں تک جاتی ہے اور لوگوں کو شاذ و نادر ہی کسی دن ایک گھنٹے کے لیے بھی بجلی ملتی ہے۔ چھوٹے شہروں اور دور دراز بستیوں میں رہنے والے بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ بعض اوقات وہ اپنے موبائل فون چارج کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ بجلی کی عدم دستیابی کاروباری اداروں، صحت کے مراکز اور تجارتی اداروں کو نقصان پہنچاتی ہے۔اس موسم سرما میں، جیسا کہ معمول بن گیا ہے، پوری وادی میں لوگ بجلی کی فراہمی کی کمی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ پی ڈی ڈی کی ورکشاپس بھی صارفین سے کھچا کھچ بھری ہوئی ہیں جو خراب ٹرانسفارمرز کی مرمت کے منتظر ہیں ۔بجلی کی بندش سے طلبہ کو بھی نقصان ہوتا ہے۔ طالب علموںکو شکایت ہے کہ بجلی کے بحران سے اُن کی پڑھائی بری طرح متاثر ہورہی ہے۔24 میں سے 20 گھنٹے بجلی بند رہتی ہے، کیونکہ محکمہ کسی شیڈول پر عمل نہیں کرتا۔ شام کے وقت ہمیں لالٹینوں، شمسی مشعلوں اور موم بتیوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ شام کی نماز کے بعد کوئی مطالعہ یا تیاری نہیں ہوتی۔ بیمار لوگ بھی بجلی کی کٹوتی کے دوران زیادہ تکلیف کا شکار ہوجاتے ہیں، خاص طور پرآکسیجن پر منحصر بیمار کو بہت مشکلات درپیش آجاتی ہے۔
بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ موسم سرما میں بجلی کٹوٹی کی روایت ایک لمبے عرصےسےچلی آرہی ہے اور اس سے نجات دلانے کے تمام تر دعوے اور وعدےتاحال بالکل کھوکھلے نظر آرہے ہیں۔اس بُری روایت کو مٹانے یا اس پر قابو پانے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی ہے۔ حکام کی جانب سے بجلی کی صورتحال میں بہتری اور مستقبل میں ہفتہ کے 24گھنٹے بجلی کی فراہمی کی یقین دہانی کے باوجود بجلی کی بندش ہو رہی ہے۔متعلقہ حکام کو بحران کے حل کے لیے طویل مدتی اور قلیل مدتی اقدامات کرنے ہوں گے۔ بجلی کے نئے منصوبے لگانے کی فوری ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں کوئی کمی نہ ہو نامکمل منصوبوں کو جلد مکمل کیا جائے۔ اس وقت تک باہر سے زیادہ بجلی خریدنے سمیت تمام اقدامات کے ذریعے بجلی کے منظر نامے کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔
پتہ۔ دودھ مرگ ،ترال کشمیر
ای میل۔[email protected]
(نوٹ۔ اس مضمون میں ظاہر کی گئی آراء مضمون نگار کی خالصتاً اپنی ہیں اور انہیں کسی بھی طور کشمیر عظمیٰ سے منسوب نہیں کیاجاناچاہئے۔)