یو این آئی
لندن //اسرائیل کی فلسطینیوں کے حوالے سے پالیسیوں، اس کی غزہ کی ناکہ بندی اور غزہ پر حملوں کے خلاف برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔فلسطین یکجہتی مہم، الاقصیٰ فرینڈز پلیٹ فارم، برٹش فلسطین فورم، برٹش مسلم لیگ اور اسٹاپ دی وار کولیشن کی کال کے ساتھ ہزاروں افراد لندن میں اسرائیلی سفارت خانے کے سامنے جمع ہوئے ۔غزہ اور فلسطین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے والے مظاہرین نے “ہم انصاف، ایکشن ، بائیکاٹ، اوراسرائیل پر پابندیاں لگانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
ادھر امریکہ میں بھی مظاہرے ہونے لگے ہیں، اور خود یہودی بھی فلسطینیوں پر مظالم کے خلاف سراپا احتجاج بن گئے۔انھوں نے مطالبہ کیا کہ غزہ میں اسرائیلی درندگی بند کی جائے ، یہودیوں نے ‘یروشلم کو آزاد کرو’ کے پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے ۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ اسرائیلی حکومت یہودیوں کی نہیں بلکہ صہیونیوں کی نمائندگی کرتی ہے ۔لندن میں تعینات فلسطینی سفارتکار نے بی بی سی انٹرویو میں مغرب کی منافقت کا پول کھول دیاادھر نیویارک اور سان فرانسسکو میں بھی لوگوں کی بڑی تعداد نے فلسطینیوں سے یکجہتی کا اظہار کیا، کینیڈا، اسپین، آسٹریلیا، برطانیہ سمیت اردن میں بھی صہہونی جارحیت کے خلاف ہزاروں افراد سڑکوں پر نکلے ۔دنیا بھر کے مظاہرین فلسطینیوں کا قتل عام فوری بند کرنے اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ کر رہے ہیں۔