یواین آئی
انقرہ//ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان کی زیر قیادت انقرہ میں قومی سلامتی کونسل کا اجلاس منعقد ہوا۔ترک قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں بحیرہ اسود میں کشیدگی کو کم کرنے اور اناج راہداری معاہدے کی بحالی کیلئے طرفین سے درخواست کی گئی ہے۔اجلاس میں پی کیکے ،فیتو اور داعش جیسی دہشت گرد تنظیموں سمیت قومی اتحاد و یک جہتی اور بقائے ملی کیخلاف ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کیلئے اندرون و بیرون ملک آپریشنز جاری رکھے جائیں گے۔ اعلامیئے میں عراق کے ساتھ تعاون کو ہر شعبے میں فروغ دینے اور انسداد دہشت گردی اور خطے میں استحکام و سلامتی کی بحالی کیلئے سنجیدہ کوششیں صرف کرنے کا اظہار کیا گیا۔علاوہ ازیں روس اور یوکرین کی جنگ کی صورت حال اور خطے پر اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے واضح کیا گیا کہ بحیرہ اسود میں کشیدگی بڑھانا کسی کے مفاد میں نہیں ہوگا لہذا طرفین سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ مذاکراتی میز پر آتے ہوئے جنگ ختم کرنے سمیت اناج راہداری معاہدے کو بحال کریں۔اعلامیئے میں اس بات کی جانب بھِی اشارہ کیا گیا کہ افریقہ کی تازہ صورتحال اورموجودہ مسائل کے پر امن تصفیہ کیلئے افریقی سربراہوں پر ذمے داری عائد ہوتی ہیں، علاوہ ازیں، مذہب اسلام کے خلاف شرانگیزی اور دو ارب مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح کرنے کے موجب مظاہروں کو روکنے اور مرتکب افراد کو سزا دینے کیلئے ممالک سے ذمہ داریاں پوری کرنے اور آزادی اظہار کی آڑ میں نفرت انگیزی اور مقدس اقدار کی بے حرمتی کیخلاف اتحاد و تعاون کی دعوت دی گئی ہے۔