یواین آئی
دمشق//شام کے دارالحکومت دمشق کے قریب اسرائیلی فضائی حملوں میں چار شامی فوجی ہلاک اور چار دیگر زخمی ہو گئے۔سرکاری خبر رساں ایجنسی “سانا” نے رپورٹ کیا کہ اتوار کی صبح 2:20 بجے اسرائیل نے مقبوضہ شام کے علاقے گولان کی سمت سے ایک فضائی حملہ کیا جس میں دمشق کے نزدیکی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ایجنسی نے غیر معین مادی نقصان کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ اس حملے میں چار فوجی ہلاک اور چار دیگر زخمی ہوئے اور مزید بتایا کہ شامی فضائی دفاع نے کچھ میزائلوں کو راستے میں ناکارہ بنا دیا۔دارالحکومت میں اے ایف پی کے ایک نامہ نگار نے دھماکوں کی آواز آنے کی اطلاع دی۔شام میں ایک عشرے سے زیادہ طویل جنگ کے دوران اسرائیل نے شام کے علاقوں پر سینکڑوں فضائی حملے کیے ہیں۔ ان حملوں میں بنیادی طور پر ایران کی حمایت یافتہ افواج اور حزب اللہ کے جنگجوں کے ساتھ ساتھ شامی فوج کے ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔اگرچہ اسرائیل شام پر کیے جانے والے حملوں پر شاذ و نادر ہی تبصرہ کرتا ہے لیکن اس نے بارہا کہا ہے کہ وہ اپنے دیرینہ دشمن ایران کو وہاں قدم جمانے کی اجازت نہیں دے گا۔العربیہ کی رپورٹ کے مطابق جنگ کے ایک نگراں نے اس وقت کہا “19جولائی کو دمشق کے قریب اسرائیلی فضائی حملے میں تین حکومت کے حامی جنگجو ہلاک اور چار دیگر زخمی ہو گئے تھے۔سانا نے ان حملوں میں دو فوجیوں کے زخمی ہونے کی اطلاع دی تھی۔ اس نے ایک فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ بمباری میں “دمشق کے بعض نزدیکی مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔شام کی وزارتِ خارجہ نے اس حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی تھی۔سانا کی طرف سے دیئے گئے ایک بیان میں وزارت نے اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل سے “فوری طور پرکارروائی کرنے” کا مطالبہ کیا تھا تاکہ اسرائیل کو “ان مجرمانہ سرگرمیوں سے باز آنے” کا پابند کیا جائے۔گذشتہ ماہ کے اوائل میں سرکاری میڈیا نے کہا تھا کہ اسرائیل نے حکومت کے زیرِ قبضہ شہر حمص کے قریب فضائی حملے کیے تھے۔اسرائیلی فوج نے بعد میں کہا کہ اس نے راکٹ فائر کرنے کے بعد ایک طیارہ شکن بیٹری کو نشانہ بنایا۔سانا کے مطابق 14 جون کو اسرائیل نے دمشق کے قریب فضائی حملہ کیا تھا جس میں ایک فوجی زخمی ہوا۔سابقہ اسرائیلی حملوں سے دمشق اور حلب دونوں کے ہوائی اڈے خدمات انجام دینے کے قابل نہیں رہے۔ مارچ کے آخر اور اپریل کے اوائل میں اسرائیل نے شام پر اپنے حملوں کو تیز کرتے ہوئے ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں حکومت کے زیرِ قبضہ علاقوں پر چار مرتبہ چھاپے مارے جن میں شامی حکومت کی افواج اور ایران نواز گروپوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
اسرائیلی فوجیوں نے | 3 فلسطینیوں کو ہلاک کیا
یواین آئی
یروشلم/جینن// اسرائیلی فوجیوں نے ویسٹ بینک میں تین مسلح فلسطینیوں کو اس وقت ہلاک کر دیا جب وہ اسرائیلیوں پر حملہ کرنے جارہے تھے۔اسرائیلی فوج کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق، شن بیٹ داخلی سلامتی ایجنسی کے فوجیوں اور ایجنٹوں نے شمالی ویسٹ بینک میں جینن کے قریب “ایک دہشت گرد سیل” کو ناکام بنادیا ۔بیان میں کہا گیا ہے کہ گروپ کا سربراہ، جس کی شناخت جنین پناہ گزین کیمپ کے 26 سالہ نائف ابو تسوک کے طورپر ہوئی ہے، جو کہ ایک اہم فوجی آپریٹرتھا اور اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے خلاف فوجی کارروائی اور غزہ کی پٹی میں عسکریت پسندوں کے ذریعہ ہدایت یافتہ فوجی سرگرمیوں کوآگے بڑھانے میں شامل تھا۔جنین میں فلسطینی عینی شاہدین نے بتایا کہ جب انتہا پسند شہر کے جنوب کی طرف بڑھ رہے تھے اسی دوران ایک خصوصی اسرائیلی مسلح فورس نے ان پر فائرنگ کی۔انہوں نے الزام لگایا کہ اسرائیلی فوجیوں نے ایمبولینس کو زخمی فلسطینیوں تک نہیں پہنچنے دیا جس سے ان کی موقع پر ہی موت ہوگئی۔
اسرائیل میں عدالتی اصلاحات کے خلاف مظاہرہ
یواین آئی
تل ابیب// اسرائیل میں عدالتی اصلاحات کے خلاف مظاہرے مسلسل 31ویں ہفتے بھی جاری رہے اور گزشتہ روز بھی ہزاروں لوگ سڑکوں پر نکل آئے اسرائیلی ٹیلی ویژن کی رپورٹوں میں تل ابیب میں مظاہرین کی تعداد دس لاکھ سے زیادہ بتائی گئی ہے، جو پچھلے ہفتے کے آخر میں بتائی گئی تعداد کا نصف ہے منتظمین کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں 150 مقامات پر مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ سرکاری کمپانڈ کے قریب ریلی نے تل ابیب کے وسط میں ٹریفک میں خلل ڈالا۔ ہجوم نے قومی پرچم لہراتے ہوئے حکومت مخالف نعرے لگائے۔اصلاحات کے خلاف مظاہرے اس لیے ہو رہے ہیں کہ یہ سپریم کورٹ کے اختیارات کو روکنا اور دائیں بازو کی حکومت کو ججوں کی تقرری میں مزید اختیارات دینے کی کوشش کر رہی ہے جو جولائی میں پارلیمنٹ کی جانب سے ایک بل کی منظوری کے بعد دوبارہ شروع ہوئی تھی۔ اس کے نفاذ سے ججوں کی حکومتی فیصلوں کو تبدیل کرنے کی صلاحیت محدود ہو جائے گی جنہیں وہ غیر منصفانہ سمجھتے ہیں۔