عظمیٰ ویب ڈیسک
اکھنور// پاکستانی سرحد کے قریب جموں ضلع کے اکھنور علاقے میں دریائے چناب میں شدید بارش کے نتیجے میں ہفتہ کے روز سینکڑوں ایکڑ اراضی زیر آب ہوگئی ہے اور ایک مکان بھی بہہ گیا۔ لوگوں کو، جن میں زیادہ تر خانہ بدوش ہیں، محفوظ علاقوں تک پہنچانے کے لیے ضلع انتظامیہ کی جانب سے ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا ہے۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (اے ڈی سی) جموں، ہرویندر سنگھ نے بتایا، “چناب کے پانی کی سطح میں اضافہ ہوا ہے۔ دریا کے کناروں کے آس پاس کے باندھوں کو نقصان پہنچا ہے۔ کچھ جگہوں پر باندھیں ٹوٹ گئی ہے اور دیہات کے قریب بہہ رہا ہے، اس لیے ہم لوگوں کو وہاں سے نکالنے آئے ہیں۔ صورتحال قابو میں ہے”۔
انہوں نے کہا کہ پانی کی سطح میں اضافے کے خطرے کے پیش نظر علاقے سے 105 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ قومی اور ریاستی ڈیزاسٹر ریسپانس فورس اور مقامی حکام کو بچاو کاموں میں لگا دیا گیا ہے۔
ایس ڈی آر ایف کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی وائی ایس پی) ارویندر کوتوال نے بتایا،”صورتحال قابو میں ہے۔ صبح کے وقت پانی کی سطح بلند تھی۔ ہمیں امید ہے کہ اس میں مزید اضافہ نہیں ہوگا۔ ہم نے لوگوں سے دریائے چناب سے دور رہنے کی اپیل کی ہے”۔
لوگوں کا کہنا تھا کہ چناب خطرناک حد تک ان کے گاوں کے قریب آ رہا ہے۔ گرکھل کے رہائشی راہول شرما نے کہا، “بہت خطرہ ہے کیونکہ دریا اپنا راستہ کاٹ رہا ہے اور گاو¿ں کے قریب آ رہا ہے”۔
پرگوال کے کسان راجندر سنگھ نے حکومت سے سیلاب میں تباہ شدہ فصلوں کے معاوضے کا مطالبہ کیا۔
سنگھ نے کہا، “ہم حکومت سے کچھ معاوضے کی اپیل کرتے ہیں۔ 2014 میں بھی ہمیں کچھ نہیں ملا۔ میری 2 سے 3 لاکھ روپے کی فصلیں تباہ ہو گئیں۔ میرے پاس کچھ بھی نہیں بچا”۔
صورتحال سنگین نظر آنے اور مون سون کی بارشوں کے مزید چند ہفتوں تک جاری رہنے کا امکان ہے، لوگوں کو امید ہے کہ انتظامیہ انہیں ضروری امدادی سامان مہیا کرے گی۔