عظمیٰ نیوزڈیسک
اسلام آباد// پاکستان اب تک کے بدترین دور سے گزر رہا ہے۔ ملک میں گزشتہ کئی ہفتوں سے آٹے کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ کراچی سمیت ملک کے دیگر حصوں میں آٹے کی قیمتوں کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ پاکستان کے کراچی کی تاریخ میں پہلی بار 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 3200 پاکستانی روپے تک پہنچ گئی ہے۔ یعنی ایک کلو آٹے کی قیمت 320 روپے ہے۔ ایسے میں یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ یہاں کے لوگ شاید دنیا کا سب سے مہنگا آٹا خرید رہے ہیں۔ قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے کا سب سے زیادہ نقصان پاکستانی عوام کو ہو رہا ہے۔
سرکاری سبسڈی والے آٹے کے لیے لمبی قطاریں نظر آ رہی ہیں۔اطلاعات کے مطابق کراچی میں آٹے کی قیمت اسلام آباد اور پنجاب کی قیمتوں سے زیادہ ہے۔ کراچی میں آٹے کے 20 کلو تھیلے کی قیمت میں 200 روپے کا اضافہ دیکھا گیا جس کی قیمت 3200 روپے تک پہنچ گئی۔ دریں اثنا، حیدرآباد میں 20 کلو کا تھیلا 140 روپے کے اضافے کے بعد 3,040 روپے میں بک رہا ہے۔ جبکہ اسلام آباد، راولپنڈی، سیالکوٹ اور خضدار میں 20 کلو تھیلے کی قیمتوں میں بالترتیب 106 روپے، 133 روپے، 200 روپے اور 300 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔جبکہ بہاولپور، ملتان، سکھر اور کوئٹہ میں 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت میں بالترتیب 146 روپے، 93 روپے، 120 روپے اور 100 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس سے قبل یہ اطلاع ملی تھی کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے درمیان پاکستان کے مختلف حصوں کی خوردہ منڈیوں میں چینی کی قیمتیں 160 روپے فی کلو تک کی بلند ترین سطح کو چھو گئیں۔اطلاعات کے مطابق یہ حالت صرف آٹے کی نہیں ہے۔ چینی کا بھی یہی حال ہے۔ یہاں کی مقامی مارکیٹ میں چینی 150 روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہول سیل مارکیٹ میں چینی کی قیمت 137 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے، اب تک یہ 132 روپے فی کلو تھی۔