عظمیٰ ویب ڈیسک
اودھم پور// مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اتوار کو کہا کہ ادھم پور پارلیمانی حلقہ، خاص طور پر اودھم پور سیکٹر جس میں کٹرہ اور ریاسی بھی شامل ہیں، جو کہ ادھم پور ضلع کا حصہ تھے، ایک منفرد مذہبی سیاحتی سرکٹ پیش کرنے جا رہا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ 190 کروڑ روپے کا ریور دیویکا ریجوینیشن پروجیکٹ، 100 کروڑ روپے کا مرکزی منتلائی پروجیکٹ، مرکزی سودیش یوجنا کے تحت مانسر جھیل پروجیکٹ، سدھ مہادیو، سورنسر جھیل وغیرہ کے ذریعے ضلع کی مربوط ترقی ہو گی۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے منتلائی میں ضلع انتظامیہ اودھم پور کے ساتھ ایک جائزہ میٹنگ کے دوران ان باتوں کا اظہار کیا۔
منتلائی پروجیکٹ کا حوالہ دیتے ہوئے، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ اس منصوبے کی شروعات آنجہانی دھیریندر برہم چاری نے کی تھی، جو اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے یوگ گرو تھے اور انہوں نے یہ زمین لیز پر حاصل کی تھی۔ تاہم، منصوبے کے وسط میں، دھیریندر برہم چاری کی اچانک ایک ہوائی حادثے کے بعد موت ہو گئی اور اس کے بعد سے آنے والی کانگریس حکومتوں نے اس پر توجہ نہیں دی اور اسے تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کے 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد ہی اس پروجیکٹ کو تقریباً تین دہائیوں کے بعد بحال کیا گیا اور اب اس مقام پر ایک جدید ترین ویلنس سینٹر کم ٹورسٹ ریزورٹ سامنے آیا ہے۔ اسی طرح دریائے دیویکا کا معاملہ بھی ہے جو گزشتہ کئی سالوں سے خستہ حال رہا اور مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد ہی، شمالی بھارت کے پہلے دریائے دیویکا کی مرمت و تجدید کاری اور خوبصورتی کے منصوبے کو منظوری دی گئی۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ کٹرہ کو 2014 میں مودی حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ہی اس کا ریلوے سٹیشن ملا اور اب پورا علاقہ قومی پرساد سکیم میں شامل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، انٹر موڈل سٹیشن، سدھمہادیو کے مقدس مقام کو بھی 2014 کے بعد ہی توجہ ملی اور اب رابطے کی سہولت کے لیے ایک متبادل قومی شاہراہ زیر تعمیر ہے۔ جب کہ منتلائی اور مانسر کو پہلے ہی آفیشل ٹورسٹ سرکٹ میں شامل کیا جا رہا ہے، امید ہے کہ آنے والے وقت میں شیو کھوڑی بھی اس کا حصہ بن جائیں گے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ضلع کشتواڑ میں منعقد ہونے والی مچیل یاترا میں بنیادی سہولیات کا فقدان تھا۔ پچھلے 9 سالوں میں یاترا کے دوران بیت الخلاءاور موبائل ٹاور فراہم کیے گئے تھے اور بجلی کی عدم موجودگی میں خصوصی سولر پاور پلانٹ بھی فراہم کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ اودھم پور پارلیمانی حلقہ کو ملک کے قدیم مذہبی سیاحتی مقامات کے خزانے سے نوازا گیا ہے اور یہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ممکن ہوا ہے کہ ان مذہبی سیاحتی مقامات کی دیکھ بھال اور آسائش کے لیے پہلی بار ترقی کی گئی ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ اودھم پور پارلیمانی حلقہ میں بنیادی ڈھانچہ بہترین ہے اور ملک کا اب تک کا سب سے زیادہ ترقی پذیر حلقہ ہے، اور پچھلے نو سالوں میں اس میں زبردست ترقی ہوئی ہے۔ دہلی کٹرہ ایکسپریس ہائی وے، تاریخی کامکھیا (آسام) سے کٹرہ (ویشنو دیوی) ٹرین 2,000 کلومیٹر سے زیادہ کا فاصلہ طے کرتی ہے اور مذہبی یاترا کے دو اہم مقامات کو جوڑتی ہے اور وندے بھارت ایکسپریس وزیر اعظم نریندر مودی کے فراہم کردہ بہترین تحائف میں سے ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ اودھم پور پارلیمانی حلقہ میں مذہبی سیاحتی سرکٹ کا خطے کی ترقی اور پیشرفت میں بہت اہم کردار ہے کیونکہ ملک بھر کے زائرین ان مذہبی مقامات کو دیکھنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے مزید کہا کہ ہندوستان کے وزیر اعظم کے طور پر حلف اٹھانے کے پہلے ہی دن سے، وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک بھر میں مذہبی دلچسپی کے مقامات کو ایک محفوظ، موثر اور آرام دہ نیٹ ورک کے ساتھ جوڑنے کا وژن پیش کیا۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا، پرساد سکیم ‘پیلگریمیج ریجووینیشن اینڈ اسپرچوئل آگمنٹیشن ڈرائیو’ کا مقصد یاترا کے مقامات کو ترجیحی، منصوبہ بند اور پائیدار طریقے سے مربوط کرنا ہے تاکہ مذہبی سیاحت کا مکمل تجربہ فراہم کیا جا سکے اور حکومت کی اس سکیم کی وجہ سے ہی مذہبی سیاحت کو فروغ ملا ہے۔ اودھم پور پارلیمانی حلقہ اس کی بہترین مثال ہے۔
ڈاکٹر سنگھ نے ضلع انتظامیہ کو ہدایت دی کہ ان مذہبی سیاحتی مقامات پر کام کو تیز کیا جائے تاکہ پروجیکٹ بروقت مکمل ہوں۔