استنبول//ترکیہ کے صدر ایردوان نے کہا ہے کہ یورپی یونین انقرہ کے ساتھ طویل عرصے سے تعطل کا شکار رکنیت کے مذاکرات دوبارہ شروع کرتی ہے تو ترکیہ سویڈن کی نیٹو کی امیدواری کی حمایت کرے گا۔پیر کے روز لیتھوانیا میں نیٹو سربراہی اجلاس کے لیے روانگی سے قبل ایردوان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پہلے ترکیہ کی یورپی یونین کی رکنیت کا راستہ کھولیں، پھر ہم اسے سویڈن کے لیے کھولیں گے۔ جیسا کہ ہم نے فن لینڈ کے لیے یہ راستہ کھولا تھا۔ایردوان نے کہا کہ میں نے اتوار کو امریکی صدر بائیڈن سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے یہی کہا تھا۔ یاد رہے ترکیہ نے پہلی مرتبہ 1987 میں یورپی اقتصادی برادری کا رکن بننے کے لیے درخواست دی تھی۔ یہ 1999 میں یورپی یونین کا امیدوار ملک بن گیا اور 2005 میں باضابطہ طور پر اس نے رکنیت کے مذاکرات کا آغاز کیا تھا۔ یہ مذاکرات 2016 میں ترکیہ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے متعلق یورپی خدشات کے اظہار کے بعد رک گئے تھے۔ترک صدر ایردوان نے کہا میں ایک حقیقت کو واضح کرنا چاہتا ہوں، ترکیہ 50 برس سے یورپی یونین کے دروازے پر انتظار کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا نیٹو کے تقریباً تمام ارکان یورپی یونین کے رکن ہیں۔