یو این آئی
بیجنگ// چین نے ہندوستان اور امریکہ کی طرف سے پاکستان مقیم لشکر طیبہ کے دہشت گرد ساجد میر کو اقوام متحدہ میں عالمی دہشت گرد نامزد کرنے کی تجویز کو روک لگادی ہے دہشت گرد ساجد 26/11 ممبئی دہشت گردانہ حملوں میں ملوث تھا اور عالمی سطح پر مطلوب تھا چین نے منگل کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 1267 القاعدہ پابندیوں کی کمیٹی کے تحت عالمی دہشت گرد کے طور پر ساجد میر کو بلیک لسٹ کرنے اور اس کے اثاثے منجمد کرنے، سفری پابندی اور ہتھیاروں کی پابندی عائد کرنے کی امریکہ کی جانب سے پیش کی گئی اور ہندوستان کی جانب اتفاق ظاہر کی جانے کی تجویز کو روک دیا ہے۔
گزشتہ سال ستمبر میں چین نے اقوام متحدہ میں ساجد میر کو دہشت گرد قرار دینے کی تجویز پر اڑنگا لگا دیا تھا۔ اب چین نے امریکہ کی تجویز کو بھی روک دیا ہے۔ ساجد میر ہندوستان کے انتہائی مطلوب دہشت گردوں میں سے ایک ہے اور امریکہ نے 26/11 کے ممبئی دہشت گردانہ حملوں میں اس کے رول کے لئے اس پر 50 لاکھ امریکی ڈالر کا انعام رکھا ہے۔
ساجد میر کو گزشتہ سال جون میں پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے دہشت گردی اور مالی معاونت کے مقدمات میں 15 سال سے زائد قید کی سزا سنائی تھی۔ اگرچہ پاکستانی افسران نے پہلے دعویٰ کیا تھا کہ ساجد میر انتقال کر گیا ہے لیکن مغربی ممالک نے اس کی موت کے ثبوت مانگے ہیں۔
ساجد میر پاکستان میں مقیم لشکر طیبہ کا ایک سینئر رکن ہے اور نومبر 2008 کے ممبئی دہشت گردانہ حملوں میں ملوث ہونے کے الزام میں مطلوب ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ ساجد میر حملوں کے لیے لشکر طیبہ کا آپریشنز مینیجر تھا، جس نے ان کی منصوبہ بندی، تیاری اور عملدرآمد میں اہم روال ادا کیا۔چین پاکستان کا دوست ملک ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں کی کمیٹی کے تحت پاکستان میں مقیم دہشت گردوں کو بلیک لسٹ کرنے کے لئے بار بار چین اس پر روک لگاتا رہا ہے۔