سری نگر//جموں و کشمیر اور نئی دہلی سے موصولہ ایک رپورٹ میں سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کے عہدیداروں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ مرکزی حکومت جموں وکشمیر کے اندرونی علاقوں سے فوج کے مرحلہ وار انخلاءکا منصوبہ بنا رہی ہے تاہم ایل او سی پر تعیناتی برقرار رکھی جائے گی۔
بتادیں کہ یہ پیشرفت جموں وکشمیر سے دفعہ 370کی منسوخی کے تقریباً ساڑھے تین سال بعد سامنے آئی ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملی ٹینسی کے خاتمے کے ساتھ ساتھ کشمیر کے اندرونی علاقوں میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری آئی ہے جس کے بعد مرکزی وزارت دفاع، مرکزی وزارت داخلہ، فوج اور پولیس سمیت حکام کو فوج کے انخلا پرغور کر رہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق، وادی سے فوج کا انخلا مرحلہ وار ہو گا جس میں پہلے کچھ اضلاع سے فوج کو نکالا جائے گا اور سیکورٹی ایجنسیاں ابھرتی ہوئی صورتحال پر نظر رکھیں گی۔
فوج کے انخلا کے بعد یہ ذمہ داری سی آر پی ایف کے ذمہ گی ۔
بتادیں کہ جموں وکشمیر بھر میں سی آر پی ایف اہلکاروں کی کل تعداد 60,000 سے زیادہ ہے جبکہ 1,30,000 فوجی اہلکار بشمول 45,000 آر آر اہلکار تعینات ہیں۔ علاقے میں پولیس کے تقریباً 80,000 اہلکار تعینات ہیں۔ تینوں سیکورٹی ایجنسیاں انسداد ملی ٹینسی کارروائیوں میں شامل ہیں۔
ایک رپورٹ میں سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے ایک سینئر افسر کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا،”یہ معاملہ بین وزارتی سطح پر زیر بحث ہے اور سمجھا جاتا ہے کہ یہ قابل عمل ہے۔ ایک طرح سے فیصلہ ہو چکا ہے اور یہ کب ہو گا اس کی وضاحت ابھی تک نہیں کی گئی ہے۔ تاہم، یہ ایک سیاسی کال ہو گی”۔
انہوں نے بتایا کہ حکام چاہتے ہیں کہ وادی میں حالات پوری طرح سے پرامن ہو چکے ہیں جہاں عسکریت پسندی سے متعلق تشدد اور ہلاکتوں میں کافی کمی آئی ہے، اسی طرح امن و امان کی صورتحال اور پتھراو¿ کے واقعات میں بھی کمی آئی ہے۔
مرکزی وزارت داخلہ کے ایک اہلکار کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے، ‘اندرونی علاقوں سے فوج کے انخلاءسے معمولات بحال ہونے کے دعوے سچ ثابت ہو جائیں گے’۔
کشمیر کے اندرونی علاقوں سے فوج کے مرحلہ وار انخلاءپر نئی دہلی میں غور