جموں//جموں و کشمیر میں برف و باراں کے بیچ کانگریس لیڈر راہل گاندھی کی قیادت میں ’بھارت جوڑو یاترا‘ ضلع کٹھوعہ کے ہٹلی موڑ سے اپنے سفر کے 125 ویں دن دوبارہ شروع ہوئی۔راہل گاندھی نے سردی سے بچنے کے لئے سفید ٹی شرٹ پر سیاہ برساتی کوٹ پہن رکھاتھا اور خراب موسمی حالات کے باعث یاترا دیر سے شروع ہوئی۔یہ یاترا سال گذشتہ کے 7 ستمبر کو کنیا کماری سے شروع ہوئی تھی اور جمعرات کی شام پنجاب سے جموں وکشمیر میں داخل ہوئی اور یہ یاترا 30 جنوری کو سری نگر کے شیر کشمیر انٹرنیشنل کنونشن سینٹر میں اختتام پذیر ہوگی۔شیو سینا (اودھے ٹھاکرے) کے رکن پارلیمان سنجے راوت نے بھی راہل گاندھی کے ساتھ مل کر یاترا میں حصہ لیا۔ انہوں نے وقفے تک کانگریس لیڈر راہول گاندھی کے ساتھ واک کیا اور ملک کی موجودہ موجودہ صورتحال پر بات چیت کی۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ کانگریس کی بھارت جوڑو یاترا نے یاترا کا آخری مرحلہ ضلع کٹھوعہ کے ہٹلی موڑ سے شروع کیا ہے۔راوت نے کہا کہ کنیا کماری سے کشمیر تک بھارت جوڑو یاترا کا سفر اتحاد اور بھائی چارے کا پیغام دے رہا ہے جو ملک میں نفرت کی سیاست کے درمیان وقت کی ضرورت ہے۔سنجے راوت کے ساتھ ریاست شیوسینا کے صدر منیش ساہنی نے بھی سینکڑوں پارٹی کارکنوں کے ساتھ یاترا میں حصہ لیا۔ نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ جمعرات کو ہی کٹھوعہ پہنچے اور یاترا میں شرکت کی اور لوگوں سے خطاب بھی کیا۔جموں وکشمیر کانگریس یونٹ کے صدر وقار رسول، غلام احمد میر اور کئی کانگریس لیڈران یاترا میں راہل گاندھی کے ہمراہ ہیں۔جموں وکشمیر انتظامیہ نے یاترا کے لئے سیکورٹی کا بھر پور بندوبست کیا ہے۔
جمو ں میں سیکورٹی کے مثالی انتظامات
جموں//جمو ں میں راہول گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا کے پیش نظر سیکورٹی بندو بست کو مزید سخت کردیا گیا ہے۔ایک سینئر پولیس عہدیدار نے بتایا ‘بھارت جوڑو یاترا کے لئے سیکورٹی کے مثالی انتظامات کئے گئے ہیں۔جموں پٹھان کوٹ قومی شاہراہ پر فورسز کی اضافی نفری تعینات کردی گئی ہے جبکہ جلسہ گاہ کو چاروں اطراف سے سیکورٹی حصار میں لے لیا گیا ہے’۔ انہوں نے بتایا ‘جلسہ گاہ کی سیکورٹی کی ذمہ داری اسپیشل پروٹیکشن گروپ نے اپنے ذمے لی ہے جبکہ اس کے اردگرد خاص طور پر بین الاقوامی سرحد پر نگرانی کا کام فوج، ریاستی پولیس اور پیرا ملٹری فورسز انجام دے رہی ہیں’۔مذکورہ عہدیدار نے بتایا ‘ ستواری جموں میں راہول گاندھی عوامی ریلی سے خطاب کریں گے اور اس کے پیش نظر تمام سیکورٹی ایجنسیاں ہائی الرٹ پر ہیں’۔ انہوں نے مزید بتایا ‘جموں پٹھان کوٹ قومی شاہراہ پر کئی ایک مقامات پر ناکے بٹھائے گئے ہیں۔ ان ناکوں پر گاڑیوں کو روک کر ان کی تلاشی لی جاتی ہے’۔دریں اثنا پاکستان کے ساتھ لگنے والی سرحدوں پر بھی ہائی الرٹ جاری کیا گیا۔ذرائع کے مطابق پاکستان کے ساتھ لگنے والی سرحدوں پر فوج کو مستعد رہنے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔دفاعی ذرائع نے بتایا کہ بین الاقوامی سرحد پر بارڈر سیکورٹی فورسز کے اہلکار چوبیس گھنٹے اپنی خد مات خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دے رہے ہیں۔ علا وہ ازیں شہر میں مختلف سڑکوں بالخصوص اہم شاہراہوں پر موبائل چیک پوائنٹس قائم کئے گئے ہیں جہاں ریاستی پولیس اور سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے اہلکار تعینات کئے گئے ہیں۔موصولہ اطلاعات کے مطابق شمالی کشمیر اور جنوبی کشمیر کے اضلاع کو سری نگر سے جوڑنے والی سڑکوں پر بھی سیکورٹی فورسز نے موبائل چیک پوائنٹس قائم کئے ہیں۔