شوکت احمد ڈار۔شوپیان
شاعری علامہ اقبال کا شغل نہیںشناخت ہے۔وہ ایک سوچتے ہوئے ذہن اور احساس سے بھر پور دل کے حامل شاعر تھے۔ ان کا شمار عظیم شاعروں اور فنکاروں میں ہوتا ہے۔وہ شاعری کو صرف تفریح اور نشاط انگیزی کا وسیلہ نہیں سمجھتے تھے۔بلکہ وہ شاعری کے ذریعے زندگی کو نکھارنے ،سنوارنے اور آگے بڑھانے کے قائل تھے۔ان کی شاعری مختلف موضوعات پر مشتمل ہیں ، جن کی ایک لمبی فہرست موجودہیں ،کلام اقبال کا مطالعہ کرنے سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ ان کے کلام میں ایک پیغام ہے ۔ جو امن ،ترقی،خوش حالی ،محبت اور سر بلندی پر منحصر ہے ۔ انہوں نے اپنی شاعری میں ہر خاص وعام کو مختلف پیرایہ میںمخاطب کیا اور ملت کے نوجوانوں کو اپنے کلام میں مسلسل یاد کیا ۔کیونکہ ان کی امیدیں نوجوان طبقے کے ساتھ سب سے زیادہ وابستہ تھیں ، انہیں پورا یقین تھا ۔کہ نئی نسل قوم کا مستقبل اور سرمایہ ہے ۔اگر یہ نسل تعلیم یافتہ،باصلاحیت ،غیرت مند ،مہذب اور روشن دماغ ہوگی تو قوم کا مستقبل تابناک ہوگا ۔بصورت دیگر قوم اندھیروں میں بھٹکتی رہے گی ۔گویا قوم کا مستقبل نسلِ نو کے ساتھ وابستہ ہے ۔ان کو بہ طور کچھ نصیحتیں کی ہیں کہ ملت کا نوجوان ہر لحاظ سے مکمل انسان بننے کی کوشش کریں اور اپنے آپ کو ان اوصاف سے آراستہ کرلیں جو خود ان کی نشونما اور ترقی کے لئے ضروری ہیں ۔ ان کا مثالی نوجوان خوددار ،یقین محکم اور عمل پیہم کی خوبیوں سے آراستہ ہوں ،اقبال قوم کے نوجوانوں سے مخاطب ہوکر فرماتے ہیں ،کہ آپ کے اندر شاہین کے صفات موجود ہے ،جن کو بروکار لا کر آپ تمام آنے والی نسلوں کے لئے مشعل راہ ثابت ہو سکتے ہیں ۔ انہوںنے مختلف اشعار میں بار بار شاہین لفظ کو بطوراستعارہ استعمال کر کے ملت کے نسل ِنو کو شاہین سے تشبیہ دی ۔ ایک جگہ پر علامہ اقبال نسلِ نو کو شاہین سے تعبیر کرتے ہوئے اپنے دعائیہ الفاظ میںیوں فرمایا۔
جوانوں کو مری آہ سحر دے
پھر ان شاہین بچوں کو بال وپر دے
خدایا آرزو میری یہی ہے
مرا نور بصیرت عام کردے
اقبال نے نوجوانوںکو شاہین سے کیوں تشبیہ دی ۔دراصل شاہین کے اندر کچھ خوبیاں موجود ہے ۔جو خودی کو مستحکم کرنے کے لئے ضروری ہے۔ علامہ اقبال نے نسل نو کو مخاطب کر کے شاہین کی صفات سے آراستہ ہونے کی تلقین کی ۔شاہین کی سب سے پہلی خوبی ان کی بلند پروازی،دوسرے پرندوں کی طرح نیچی پرواز ان کی شایان شان نہیں ہے وہ ہمیشہ اپنے آپ کو بلندیوں پر دیکھنا چاہتا ہے ،اقبال کی آرزو ہے کہ ایک نوجوان کی زندگی میں کوئی معمولی مقصد نہ ہوبلکہ انہیں ہمیشہ اعلیٰ مقاصدہی ہونے چاہے ۔ شاہین آشیانہ نہیں بناتا، اگر بناتا بھی ہے اس میں رہنا پسندنہیں کرتا کیونکہ انہیں ایک ہی جگہ پر رہنے میں دلچسپی نہیں ہے ۔ وہ تھکتا نہیں اکثر پرواز ہی میں رہتا ہے ،اقبال مسلمان نوجوان سے بھی یہی توقع رکھتے ہیں کہ وہ کسی ایک جگہ بیٹھ کر ترقی اور عظمت کے خواب دیکھنے کے بجائے علوم وفنون کے حصول کے لئے پوری دنیامیں جہاں کہیں بھی جانا پڑے، جانے سے گریز نہ کرے ۔ترقی اور بہتری کے مواقع جہاں بھی نظر آئیں ان تک رسائی حاصل کرنے کی جدوجہدکرے ۔ شاہین تیز نگاہ کے مالک ہے ۔دور تک دیکھ سکتا ہے ۔نوجوانوں کے اس صفت سے مراد کہ وہ تنگ نظر نہ بنے بلکہ دور اندیشی سے ہمیشہ کام لینا چاہئے ۔آنے والے حالات کو پہلے سے بھانپ کر منصوبہ بندی کرنے کے صلاحیت رکھتے ہوں ۔شاہین مردہ نہیں کھاتا،کسی کاماراہوا شکار نہیں کھاتا بلکہ خود شکار کرکے کھاتا ہے ،کرگس کی طرح سڑھا ہوا گوشت نہیں کھاتا ۔شاہین کی اس صفت میں اقبال نے یہ اخذ کیا کہ اگر ایک مسلمان یہ صفت اپنے آپ میں پیدا کرے تو ان کی خودی مستحکم ہو جائے گی ۔اقبال نے یہاںوہ فلسفہ پیش کیا جو ہر ایک مسلمان کو اپنانا چاہئے ۔ایک مسلمان کے لئے یہ شایان شان نہیں کہ وہ مردہ کھائے۔مردے سے یہاںمراد حرام کی کمائی جو کہ آج کل کے معاشرے میںسر عام ہے ،جو مسلم معاشرے کی تعمیر وتشکیل کے لئے سم قاتل سے کم نہیں۔رشوت خوری ،سود کا کاروبار،منشیات کے دھندے ہمارے معاشرے میں روزبہ روز عام ہوتے جارہےہیں۔اس کا قلع قمع کرنا سماج کے ہر فرد کے لئے لازم وملزوم ہے۔ خاص طور پر مسلم معاشرے کے نوجوان جن سے اقبال کی امیدیں وابستہ تھی وہ اگر اپنے اذہان ان چیزوں سے صاف و پاک رکھے اور اپنے آپ میںشاہینی صفات پیدا کریں تو یقینا ایک اچھا معاشرہ وجود میں آئیگا ۔اقبال نے اپنی شاعری میں اس نوجوان کو ایک لاہوتی صفت سے یاد کیا ۔چنانچہ فرماتے ہیں اے وہ لاہوتی پرندے اس رزق سے موت بہتر ہے ،جس سے آپ کے پرواز میں کوتاہی آئی ۔یہاں شاعر مشرق نے حرام رزق سے بچنے کی تلقین کی ۔ انسان کی شخصیت اور اس کے کردار کی تشکیل میں لقمہ اہم رول ادا کرتا ہے ۔اس لئے جائز اور ناجائز ذرائع میں تمیز کرنے والا انسان اخلاقی بلندی اور اقدار عالیہ کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا ،بلند پروازی اور رفعت کے تصور سے اسے کوئی سروکار نہیں ہوتا ۔جس رزق سے انسان اپنے مقام سے گر جاتا ہے اور شاہینی صفت سے محروم ہوجاتا ہے، اقبال اس رزق سے ہمیشہ اجتناب کرنے کی تلقین کرتےہیں ۔؎
اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہوپرواز میں کوتاہی
شاہین کی ایک اور خوبی یہ ہے کہ جب تیز آندھی کے بعد طوفان آتا ہے ،اور تیز بارش ہونے لگتی ہے ۔تو شاہین باقی پرندوں کی طرح گھونسلے میں چھپ کر بیٹھنے کے بجائے طوفان سے لطف اندوز ہونا پسند کرتا ہےاور بادلوں سے بھی اوپر جا کے اُڑتا ہے۔ شاہین طوفان کی مخالف سمت کو مزید اُونچا اڑنے کے لئے استعمال کرتا ہے یہ طوفانی ہوا شاہین کو کم طاقت لگاتے ہوئے زیادہ اُونچائی پر لے جاتی ہے ۔شاہین کی اس خوبی کو دیکھتے ہوئے علامہ اقبال نے ایک جگہ فرمایا ؎
تندی بادِامخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اُونچا اُڑانے کے لئے
اس شعر میں بھی علامہ اقبال درحقیقت نوجوانوں سے مخاطب ہیں اور کہہ رہے ہیں ،زندگی میں مسائل اور مشکلات آتی رہتی ہیں ۔اس لئے ہمیں کسی مشکل وقت سے گھبرانا نہیں چاہیےاور مشکلات کاسامنا بہادری اور خوشی سے کرنا چاہیے۔نوجوان کو شاہین کی طرح بہادر اور بے خوف ہونا چاہیے ،اس کی سوچ میں شاہین کی طرح بلندی ہونی چاہیے اور مقصد حیات میں کامیابی کے لئے شاہین کی طرح پرُ عزم ہو نا درکار ہے ۔کیونکہ شاہین جب کچھ کرنے کی ٹھان لیتا ہے تو ناممکن کو بھی ممکن بنا لیتا ہے ۔
اقبال نے اپنے کلام میں جس موضوع کو بطور محور و مرکز پیش کیا ،وہ ہے ان کی خودی، اس کو حاصل کرنے کے لئے مختلف مرحلوں سے گذرنا پڑتا ہے ۔انہوں نے ’’اسرار خودی‘‘ میں ان تمام مرحلوں کا تذکرہ کیا جن کو ایک انسان حاصل کر کے اپنی خودی کو مستحکم کرسکتا ہے ۔اپنی بیشتر شاعری میں اس موضوع کو نت نئی انداز میں پیش کیااور فرمایا جس قوم کے افراد اس خودی سے سر شار ہو، انہیں کسی سہارے کی ضرورت نہیں پڑتی اور قوموں کی عروج وزوال کی داستانیں نو جوانوں کی مرہون منت ہوا کرتی ہیں۔
[email protected]