طارق اعظم
اللہ تعالیٰ نےکُل کائنات میں پیدا کی ہوئی ہر مخلوق کے اندر ضابطے اور اصول پیوست رکھے ہیں، اور اُن ہی اصولوں اور ضوابط کی بنیاد پر ہر،خلوق کے کھانے، پینے، رہنے ، بسنے اور چلنے پھرنے کے طریقے مختلف اورایک دوسرے سے بالکل الگ تھلگ ہیں۔ سیارے اور ستارے اپنے اپنےمدار میں محوِ گردش رفتارہیں۔ایک سیار ہ ،دوسرے سیارہ جیسا نہیں بن سکتا ،نہ خد و خال کی بنا پر اور نہ ہی رفتار کے لحاظ سے ۔اگر کوئی سیار اپنے اصول و ضوابط کے حدود سے نکل کر دوسرے سیار کی نقل کرنا چاہے گا تو سارا نظام تہس نہس ہوجائےگا۔ مطلب یہ کہ جب تک ہر چیز اپنے اپنے ضوابط و اصولوں کے محدود دائروں میں کار بند رہیں تب تک خدا کی اس کائنات نظام بخوبی چل سکتا ہےاور سلامت رہ سکتا ہے۔در حقیقت کائنات میں موجود تمام شاہکار حکمِ الٰہی کے ہی پابند ہیں۔ محض ایک اپنی راہ سے بیگانہ ہوا، کتابِ حیات کے اسباق بھول بیٹھا، اپنی من مانی اورخود غرضی کے راگ میں مست ومدہوش ہوا کہ خودی کو گلافِ غفلت میں ڈال کر اور’’اپنا بن‘‘ اقبالؒ کی وصیت کو بالائے طاق رکھ دیا۔ نتیجہ یہ برآمد ہوا، کہ معاشرے نے رسم و رواج کا ایساپھندہ گلے میں ڈال دیا، جس سے ہر دن ،ہر گھڑی ، ہر لمحہ اور بار بار ایسی جھکڑ میں آتا رہتا ہے کہ دن میں کئی بار ناحق اپنے آپ کو مرتا چلا جارہا ہے اور بالآخر بے موت مرجاتا ہے۔ اپنا وقار اور اپنی عزتِ نفس تک محض اپنی اَنّا ،احساسِ کمتری ،من مانی اور دکھاوےکے لئے خاک میں ملا دیتا ہے۔ وہ کون سی ہےاور مجبوری کیا ہے۔ بس یہی نا کہ’’ اگر یہ نا کروں تو لوگ کیا کہیں گے۔‘‘
کاش ہمارا ضمیر اور احساس حقیقی معنوں میں زندہ ہوتا۔ ہم اپنے اسلاف کی سیرتِ حیات سے واقف ہوتے، اُن کے رہن سہن اور زندگی گذارنے کےرنگ ڈھنگ کی مہک سونگی ہوتی، تو یہ ضمیروں کے سودے،اخلاق باختگی کے حادثے اور احساس کمتری کے جنازوں کے المیے نہ دیکھنے پڑتے۔حالانکہ ہماری خودی کی کشتی ابھی بھی دریائے سماج میں ہچکولے کھاتی جا رہی ہےاور تسلسل کے ساتھ کبھی جہیز کی لہر سے تو کبھی دکھاوے کی آندھی سے دوچار ہے۔ کتنی جوان بیٹیاں اور بیٹے ذہنی مریض ہوگئےہیں ۔ یہی مرض جب انتہا کے درجہ پر قرار کرتا ہے تو چین سے بیٹھنے نہیں دیتا ۔ پھر اس کے علاج کے لیے بینک سے اور نوابوں سے قرضہ لیا جاتا ہے اور نکاح کی دوا خریدی جاتی ہے۔ مرض کا علاج تو ہوگیا۔ لیکن قرض کی قبر کو اختیار کر کے۔ اس قبر کی وحشت روزانہ غریب لوگوں کے دلوں کو خوف کے سمندر میں ڈُبو دیتی ہے۔ کیونکہ یہ کلہاڑی تو خود انہوں نے اپنی پائوں پر مار دی ہے ۔ نکاح اپنی حیثیت کے مطابق بھی ہوسکتا تھا۔ لیکن نہیں ،جھوٹی انّا، من مانی اوردکھاوا کا بھرم توقائم رکھنا تھا۔ بس اسی واسطے نیلام کردیا ضمیر کواور خودی کو بھی۔ یہاں تک کہ اپنی عزت نفس کودنیاوی رسم و رواج کے حوالے کردیا۔ اب جس طرف معاشرہ لگام کھینچے گا، اسی طرف تو ضرور موڑ دےگا، نہیں مڑ جائے گا تو گردن ٹوٹ جائے گی۔ اب بھی موقع ہے کہ نبی رحمت ؐ کو اپنا رہنما بناکر اُن کی طرزِ زندگی سے سبق حاصل کراور اُن ؐ کے مبارک ارشادات پر چل۔اُسی سے آپ کو سکون ملے گا اور راحت سے سرشارہوگا۔ کرے۔
( ہردوشورہ کنزر، رابطہ۔ 6006362135)
[email protected]