پیونگ یانگ//شمالی کوریا کے اعلیٰ رہنما کم جونگ ان پہلی بار اپنی بیٹی کے ساتھ دنیا کے سامنے آئے ہیں، جس کی وجہ سے ان کے بیٹی کے بارے میں قیاس آرائیوں کی تصدیق ہوگئی ہے۔بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ان کی بیٹی کا نام کم چو-ایئی ہو سکتا ہے جو جمعہ کو بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کے تجربے کے دوران مسٹر کِم جونگ کے ساتھ تھی۔ٹیسٹ کے دوران باپ بیٹی ہاتھ پکڑے کھڑے تھے جس پر امریکہ کی جانب سے تنقید کی گئی ہے۔مسٹر کم جونگ دنیا کے سب سے خفیہ ملک کی قیادت کرتے ہیں جس سے لوگ ان کے بارے میں بہت کم جانتے ہیں۔بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق دونوں کی تصاویر شمالی کوریا کی ملکیتی خبر رساں ایجنسی کے سی این اے نے پیش کی ہیں جس میں دونوں ہاتھ پکڑے بات کرتے، حکام سے معلومات لیتے، میزائل کا معائنہ کرتے اور میزائل کا تجربہ کرتے نظر آ رہے ہیں۔واشنگٹن کے اسٹمسن سنٹر میں شمالی کوریا کے ماہر مائیکل میڈن نے کہا کہ چو-اے ئی کاسامنے آنا اہم ہے۔مسٹر میڈن نے بی بی سی کو بتایا کہ شمالی کوریا کی قیادت کرنے والے خاندان کی مسٹر کم جونگ تیسری نسل ہیں جن کی اقتدار پر مضبوط گرفت ہے۔انہوں نے کہا کہ مسائل کس ملک میں نہیں ہوتے لیکن ہمارے ملک کی حکومت مسائل سے گریز کرتی رہتی ہے جس کی وجہ سے مسائل ناسور بن جاتے ہیں۔ بات چاہے آبادی کی پالیسی سے لے کر تعلیم تک، انتہا پسندی سے لے کر بجٹ سازی تک اور تجارتی خسارے تک، مقامی خود مختاری سے لے کر نجکاری تک، ترقی سے لے کر لوگوں کی آمدنی کے وسیع تنوع تک کچھ بھی ہوہماری حکومتیں ان مسائل کا حل تلاش کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ حالات اتنے خراب ہیں کہ ہم عید کے چاند جیسے عام معاملات کو بھی حل نہیں کرسکتے۔انہوں نے کہا، ’’مثال کے طور پر، جنرل مشرف کے دور میں ملک پر 25 بلین ڈالر کا گردشی قرضہ تھا، جو پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے دور میں بڑھ کر500 بلین ڈالر ہوگیا اور پاکستان مسلم لیگ (نواز) کے دور میں 1100 بلین ڈالر اورپاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے دور حکومت میں 2500 بلین ڈالر کی سطح پر پہنچ گیا۔ ان میں سے کسی حکومت کے پاس اس معاملے کو حل کرنے کا وقت نہیں تھا اور اسی کا نتیجہ ہے کہ ا?ج یہ معاملہ بے قابو ہو چکا ہے۔ زیادہ تر لوگ پاور سیکٹر میں کام کر رہے ہیں لیکن بجلی کی چوری، بجلی کی تقسیم کے دوران ہونے والے نقصان وغیرہ جیسے مسائل حل نہیں ہوئے اور یہ اس وقت تک ہوبھی نہیں سکتا جب تک ہم نجکاری کو دانشمندی سے نہیں اپناتے۔ کوئی بھی ملک ہو، خواہ وہ انتہائی غریب ملک ہی کیوں نہ ہو، وہاں کے امیر لوگوں کی نظریں معاشی ترقی پر نہیں، بلکہ اپنے لیے پیسہ کمانے پر ہوتی ہیں، وہ معیشت میں بڑے حصے پر نظریں جمائے رکھتے ہیں۔ یہ صرف ملک کے غریب اور متوسط ??طبقے کے لوگ ہی ہوتے ہیں جوملک کی ترقی کے لیے سوچتے اور اس کے لئے کام کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ملک موثر حکومت اور مضبوط معاشی پالیسیوں کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا اور ہم اس میں مسلسل ناکام رہے ہیں۔ اگر ہم تعلیم کا معاملہ لیں تو ہمارے ملک میں حکومت تعلیم پر ہر سال 2000 بلین روپے خرچ کرتی ہے لیکن اسکول جانے والے بچوں کی نصف تعداد اسکول جا ہی نہیں رہی ہے۔ جو لوگ ہائی اسکول وغیرہ پاس کر چکے ہیں، ان کا لیول اتنا خراب ہے کہ وہ ریاضی کے آسان سے سوال بھی حل نہیں کر سکتے، کچھ لکھ بھی نہیں سکتے ہیں۔ (یو این آئی)