کابل//یو این آئی//افغانستان میں ستمبر میں ایک خودکش حملے میں شدید زخمی ہونے والی طالبہ نے یونیورسٹی کا امتحان اعلیٰ نمبروں سے پاس کیا ہے ۔ یہ معلومات پیر کو رپورٹ میں دی گئی کابل میں کاز ایجوکیشن سنٹر پر حملے کے بعد 17 سالہ فاطمہ امیری کی ایک آنکھ کی بینائی ختم ہوگئی اور اس کے جبڑے اور کان پر شدید چوٹیں آئیں۔ اس کے باوجود طالبہ نے یونیورسٹی کے امتحان میں 85 فیصد سے زیادہ نمبر حاصل کئے ۔افغان لڑکی نے بتایا کہ وہ اب کابل یونیورسٹی میں کمپیوٹر سائنس کی تعلیم حاصل کر رہی ہے ۔طالبہ نے بتایا کہ حملے کے وقت وہ ایک دوسری طالبہ ساتھ یونیورسٹی کے امتحانات دے رہی تھی، جب افغان دارالحکومت کے علاقے دشت برچی میں کچھ حملہ آوروں نے ٹیوشن سینٹر پر حملہ کیا۔
حملہ آوروں نے تعلیمی مرکز میں داخل ہونے سے پہلے سکیورٹی اہلکاروں پر گولی چلائی تھی۔عینی شاہدین نے بتایا کہ جاں بحق ہونے والوں میں زیادہ تر طالبات تھیں، جو دھماکہ کے وقت اگلی صف میں بیٹھی تھیں۔طالبہ فاطمہ امیری نے بتایا کہ اس حملے میں اس کی ایک آنکھ ضائع ہو گئی، لیکن ابھی تک اس کا حوصلہ پست نہیں ہوا۔ طالبہ نے کہا کہ جو کچھ میں دونوں آنکھوں سے نہیں کر سکتی تھی، اب ایک آنکھ سے کروں گی۔انہوں نے کہا کہ ان کے استاد نے آن لائن نتائج چیک کرنے میں ان کی مدد کی اور پتہ چلا کہ اس نے داخلہ کا امتحان کامیابی سے پاس کر لیا ہے ۔