جموں// جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس نے حکومت کو اس کی مکمل طور پر عوام دشمن پالیسیوں کی وجہ سے معاشرے کے ہر طبقے کو مشکلات میں ڈالنے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔این سی نے مزید الزام لگایا ہے کہ جموں و کشمیر یونین ٹیریٹری انتظامیہ نے دیگر محفوظ زمروں کے علاوہ شیڈول کاسٹ کمیونٹی کے ساتھ سخت رویہ اپنایا ہے۔جموں صوبے کے شیڈول کاسٹ (ایس سی) سیل کے ضلعی صدور کی شیر کشمیر بھون میں منعقدہ میٹنگ کے دوران یہ تنقید اور الزامات لگائے گئے۔وجے لوچن، صوبائی صدر ایس سی سیل این سی جموں نے میٹنگ کی صدارت کی، رتن لال گپتا، صوبائی صدر این سی اس موقع پر مہمان خصوصی تھے۔میٹنگ کے دوران شیڈول کاسٹ کمیونٹی کے ممبران کو درپیش اہم مسائل بشمول بیک لاگ، ریزرویشن وغیرہ پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ رتن لال گپتا نے میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سماج کا ہر طبقہ موجودہ حکومت کی کھوکھلی پالیسیوں کی وجہ سے مشکلات کے بھاری بوجھ تلے دب گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہری علاقوں میں رہنے والے لوگ انتہائی بنیادی ضرورت یعنی پینے کے پانی کو ترس رہے ہیں، جس کی قلت نے تقریباً ہر شہری علاقے کو متاثر کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پی ایچ ای ڈیلی ویجرز گزشتہ چھ ماہ سے ہڑتال پر ہیں لوگوں کو پانی کی باقاعدہ فراہمی نہیں ہو رہی لیکن حکومت کی جانب سے اس مسئلے کو حل نہ کرنا انتہائی شرمناک ہے جس کی وجہ سے عوام اپنی پیاس بھی نہیں بجھا سکتے۔گپتا نے وادی کشمیر میں تعینات ریزرو زمرہ کے ملازمین کے تئیں اس کے ناروا رویہ پر بھی حکومت کی تنقید کی جو وادی میں بے لگام ٹارگٹ کلنگ کے پیش نظر جموں میں پوسٹنگ کے لیے جموں میں احتجاج کر رہے ہیں۔اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ یہ سب سے اہم مسئلہ ہے جس پر فوری توجہ دی جائے، انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ اسے اولین ترجیح پر حل کرے۔صوبائی صدر نے اس وقت بجلی کے نرخوں میں اضافے پر حکومت کی مذمت کی جب عوام اب تک کی بلند ترین مہنگائی کا شکار ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت عوام کی مشکلات کم کرنے کے لیے بجلی کے نرخوں میں اضافے کا فیصلہ فوری واپس لے۔ڈپارٹمنٹل سٹورز میں بیئر اور دیگر ریڈی ڈرنکس کھولنے اور ریلائنس سٹورز وغیرہ کو کھولنے کو عوام مخالف احکامات قرار دیتے ہوئے انہوںنے ایسے احکامات فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ اجلاس میں وادی میں ٹارگٹ کلنگ کی بھی شدید مذمت کی گئی۔وجے لوچن نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ جب کہ مرکز کی بی جے پی حکومت عوام کی مساوی ترقی اور بہبود کے بلند و بانگ دعوے کررہی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایس سی اور دیگر ریزرو زمرے کے لوگ موجودہ حکومت میں سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت کو مذکورہ برادریوں کے تئیں اپنا رویہ بدلنا چاہیے اور معاشرے کے اس طبقے کی حالت زار کو بہتر بنانا چاہیے۔