جموں//جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے بی جے پی کو وادی میں حالات نارمل ہونے کے دعووں پر ہدفہ تنقید بناتے ہوئے کہاکہ جب تک انصاف فراہم نہیں کیا جائے گا تب تک ہلاکتوں کا سلسلہ رکنے والا نہیں ہے۔ان باتوں کا اظہار موصوف نے ریاسی جموں میں نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران کیا۔انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر میں دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد سرکار سب کچھ معمول پر آنے کا دعویٰ کر رہی ہے لیکن وادی کشمیر میں حالات اس کے برعکس ہے۔کشمیری پنڈت کی ہلاکت کو ناقا بل برداشت قرار دیتے ہوئے این سی سرپرست نے کہاکہ انصاف کی فراہممی تک قتل و غارت گری کھبی نہیں رکے گی۔فاروق عبداللہ نے سوالیہ انداز میں کہا: ’اگر حالات معمول پر آئے ہوتے تو گزشتہ دنوں شوپیاں میں کشمیری پنڈت کی ہلاکت کا واقع رونما نہ ہوتا۔‘؟کشمیر میں ٹارگیٹ کلنگ کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں فاروق عبداللہ نے کہاکہ کشمیری پنڈت کی ہلاکت کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں حالات بدسے بدتر ہوتے جارہے ہیں اور حالات سرکاری دعووں کے برعکس ہے۔نیشنل کانفرنس کے سرپرست اعلیٰ نے مزید بتایاکہ بھاجپا آج دعوئے کر رہی ہیں کہ جموں وکشمیر میں ملی ٹینسی دفعہ 370 کا نتیجہ ہے۔اْن کے مطابق آج جموں وکشمیر میں دفعہ 370نافذ العمل نہیں لیکن اس کے باوجود بھی شہری ہلاکتوں کا نہ تھمنے والا سلسلہ جاری ہے۔اْنہوں نے سوال کیا کہ آئے روز شہری ہلاکتوں کے واقعات رونما ہو رہے ہیں اس کا ذمہ دار کون ہے۔؟