سید امجد شاہ
جموں//مائیگرینٹ کشمیری پنڈتوں بشمول پی ایم پیکیج ملازمین اور راشٹریہ بجرنگ دل کے کارکنوں نے شوپیاں میں دہشت گردوں کے ہاتھوں اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے ایک شہری کی ہلاکت کے خلاف جموں میں ایک احتجاجی مظاہرہ کیا اور مصروف کینال روڈ کو بلاک کردیا۔مظاہرین نے کینال روڈ پر جمع ہو کر کینال روڈ کے کراسنگ پر دھرنا دیا اور گاڑیوں کی آمدورفت کو بلاک کر کے چوہدری گنڈ کے پورن کرشن بھٹ ولد پورن کرشن بھٹ کے دہشت گردوں کے ہاتھوں ہلاک ہونے پر اپنے غم و غصے کا اظہار کیا۔قتل کے خلاف نعرے لگانے کے دوران مظاہرین بشمول پی ایم پیکیج ملازمین، جو ماضی کے قتل کے بعد اپنے عہدوں سے واپس آئے تھے اور جموں میں ان کی منتقلی کا مطالبہ کر رہے تھے، حکام پر وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں کام کرنے والے پی ایم پیکیج ملازمین کو مجبور کرنے کا الزام لگا رہے تھے۔انکاکہناتھا”اقلیتوں کے لیے کشمیر کی صورت حال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے“۔انہوںنے کہا”ہم کشمیر میں اپنے گھروں میں بھی غیر محفوظ ہیں۔ کشمیر کے کسی بھی حصے میں خدمات انجام دینے کے لیے حالات موزوں نہیں ہیں۔ ہم گزشتہ 12 سال سے حکومت سے زمینی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے کہہ رہے تھے لیکن انہوں نے بات نہیں سنی بلکہ پنڈت ملازمین کو دھمکیوں کے باوجود ان کی خدمت کرنے پر مجبور کیا “۔ایک ملازم نے کہا”کشمیر کی زمینی صورتحال ہمارے علاوہ کون جانتا ہے (پی ایم پیکیج ملازمین)؟۔سیاح وادی کے سیاحتی مقامات پر چھٹیاں گزارنے کے بعد آتے اور جاتے ہیں لیکن وہ حقیقت سے واقف نہیں ہیں۔ہمارے (کے پی ملازمین) کے لیے کوئی مناسب رہائش اور سیکورٹی نہیں ہے“۔ان کا کہنا تھا کہ ملازمین کو مبینہ طور پر ان کی بائیو میٹرک حاضری مارک کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے اور ان کی تنخواہیں بھی روک دی گئی ہیں۔ انہوںنے بتایا”تازہ قتل نے حکام کو بیدار کر دینا چاہیے کہ حالات وہاں خدمات انجام دینے کے لیے موزوں نہیں ہیں۔ ہمیں جموں منتقل کیا جائے گا جب تک کہ حالات بہتر نہیں ہوتے اور ہماری تنخواہیں جاری کی جائیں“۔راکیش بجرنگی کی قیادت میں راشٹریہ بجرنگ دل کے کارکن بھی مہاجر کشمیری پنڈتوں کے ساتھ شامل ہوئے اور قتل کے خلاف احتجاج کیا۔راکیش بجرنگی نے کہا”کے پی ملازمین کو کشمیر میں اپنی ڈیوٹیوں میں شامل ہونے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ پنڈتوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے حکومت کی طرف سے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا“ ۔انہوں نے کہا کہ آج پھرایک اور بے گناہ کشمیری پنڈت ماراگیاہے۔ ہم اس طرح کے قتل کو مزید برداشت نہیں کریں گے۔ اس لیے ہم حکومت کو خبردار کرتے ہیں کہ وہ کشمیر میں اقلیتی برادری کو تحفظ فراہم کرے۔احتجاج جاری رہنے سے کینال روڈ اور ڈوگرہ چوک پر ٹریفک کی آمد و رفت روک دی گئی تاہم ٹریفک پولیس نے ٹریفک کی آمدورفت بحال کرنے کی تمام کوششیں کیں ۔