جموں//عام آدمی پارٹی نے جوائنٹ الیکٹرسٹی ریگولیٹری کمیشن کے ذریعہ منظور شدہ بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے حکم پر اپنی سخت تشویش کا اظہار کیا۔عام آدمی پارٹی کے ریاستی ترجمان ڈاکٹر نواب ناصر کی طرف سے کہا گیا کہ جموں و کشمیر بجلی سے مالا مال خطہ ہے جس میں ہائیڈل جنریشن نوعیت کی بجلی پیدا کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں اور اس صلاحیت کو استعمال کرنے کا مناسب انتظام ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ڈاکٹر ناصر نے کہا “جموں و کشمیر بجلی کی پیداوار کے لحاظ سے اس حد تک مالا مال ہے کہ خطے میں بجلی کی ترسیل میں کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہئے لیکن کئی حکومتوں کے ناقص انتظام کی وجہ سے معاملات اس کے برعکس ہیں”۔انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر میں پاور سیکٹر کے حوالے سے حالات کی خرابی اس حد تک بگھڑی ہوی ہے کہ غیر طے شدہ کٹوتی, کم وولٹیج اور وولٹیج کے اتار چڑھاؤ کی سب سے بڑی پریشانی ہے جبکہ جموں و کشمیر کے کئی علاقوں میں حال ہی میں بجلی پہنچی ہے اور کوئی بھی اس بات کو مسترد نہیں کر سکتا ہے کہ کچھ علاقے اب بھی ایسے ہو سکتے ہیں جن میں بجلی کی فراہمی باقی ہے۔ڈاکٹر ناصر نے جموں و کشمیر حکومت اور بھارتیہ جنتا پارٹی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور درپیش دیگر چیلنجز کے درمیان جموں و کشمیر کے عوام کو بجلی کے بڑھتی ہوء قیمتوں میں اضافہ کرکے ان کو ایک اور دھچکا لگا ہے جو کہ مکمل طور پر ناقابل قبول حکم ہے۔انکاکہناتھا”ایک طرف عام آدمی پارٹی مخصوص تعداد کے مفت بجلی یونٹوں کے ساتھ لوگوں کو بڑی راحت فراہم کر رہی ہے اور انہیں راحت کی ایک بڑی سانس دے رہی ہے لیکن دوسری طرف جموں و کشمیر ایل جی انتظامیہ اور بی جے پی عوام پر بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا مزید بوجھ ڈال رہی ہے”۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس فیصلے کو واپس لے اور عوام پر بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ ڈالنے کے بجائے پاور سیکٹر میں بہتری کی طرف توجہ دے۔