سید امجد شاہ
جموں // ڈپٹی کمشنر جموں اونی لواسا کی جانب سے جموں ضلع میں ایک سال سے زائد عرصہ سے مقیم غیر مقامی لوگوںکو ووٹر فہرستوں میں شامل کرنے کے حکام پر تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے ۔جہاںحکم کا دفاع کرتے ہوئے جموں و کشمیر بی جے پی کے صدر رویندر رینا نے کہا کہ جموں و کشمیر میں نئے ووٹروں کے اندراج کا عمل ملک کے آئین کے مطابق جاری ہے وہیں کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے اس کی مخالفت کی ہے۔
بی جے پی
رویندر رینہ کا کہناتھا’’ ہمارے ملک کا آئین کہتا ہے کہ ملک کا شہری جو کسی جگہ پر طویل عرصے سے مقیم ہے، وہ اپنے آبائی مقام سے اپنا نام حذف کرنے کے بعد خود کو بطور ووٹر رجسٹر کروا سکتا ہے‘‘۔انکاکہناتھا’’”عوامی نمائندگی ایکٹ، 1951 – جو آئین کا ایک اہم حصہ ہے ، شہری کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ اپنا نام آبائی جگہ سے حذف کر کے کسی دوسری جگہ پر رجسٹر کرائے جہاں وہ طویل عرصے سے مقیم ہو۔ اس کی اجازت ملک کے آئین میں دی گئی ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ “عوامی نمائندگی ایکٹ 1951 سابق ریاست میںلاگو نہیں کیا جا سکا اور اس وقت ووٹرز کی ووٹنگ لسٹوں میں یہ شق موجود نہیں تھی۔ اب جبکہ آرٹیکل 370 کو منسوخ کر دیا گیا ہے، اب ملک کے وہ شہری جو یہاں ایک جگہ پر طویل عرصے سے مقیم ہیں وہ اپنے ووٹوں کو اپنے آبائی مقامات سے حذف کرنے کے بعد نئے ووٹر کے طور پر رجسٹر کروانے کے اہل ہیں‘‘۔انہوں نے کانگریس، این سی اور پی ڈی پی پر الزام لگایا کہ وہ اپنے پروپیگنڈے کا سہارا لیکرلوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ سیاسی جماعتیں مرکز کے زیر انتظام علاقے میں افراتفری پھیلانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’یہ قانون کوئی نیا عمل یا ترمیم نہیں ہے۔ عوامی نمائندگی ایکٹ 1951 پہلے سے ہی پورے ملک میں نافذ ہے اور آرٹیکل 370 کی تنسیخ کے بعد یہ قانون جموں و کشمیر میں بھی لاگو کیا جا رہا ہے‘‘۔
کانگریس
جموںوکشمیرپردیش کانگریس کمیٹی صدر وقار رسول وانی نے ورکنگ صدررمن بھلا کے ساتھ کہا کہ “بلی آخر تھیلے سے باہر آ گئی ہے”۔جموں میں ایک پریس کانفرنس کے دوران وانی نے سی ای او جموں و کشمیر کے اعلان کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے پہلے ہی تقریباً 25 لاکھ ووٹرز کو شامل کرنے کا اعلان کیا تھا خاص طور پر باہر سے۔انہوں نے کہا کہ سی ای او کی طرف سے بلائی گئی آل پارٹی میٹنگ میں واضح کیا گیاتھا کہ باہر کے ووٹروں کو شامل کرنے کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا، لیکن اب “حقیقت لوگوں کے سامنے ہے”۔انہوں نے کہا کہ ’’بی جے پی جموں و کشمیر میں باہر کے لوگوں کا زیادہ سے زیادہ ووٹروں کے طور پر اندراج چاہتی ہے کیونکہ اس نے حمایت کھو دی ہے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس پارٹی جموں و کشمیر میں باہر کے لاکھوں ووٹروں کو پچھلے دروازوں سے اندراج کرنے کی کوشش کی سختی سے مخالفت کرے گی۔وانی کا کہناتھا”اب کوئی بھی یونین ٹیریٹری میں ایک سرٹیفکیٹ حاصل کرکے ووٹر بن سکتا ہے، چاہے اس کے پاس کوئی دستاویزی ثبوت نہ ہو۔ نیت صاف معلوم ہے۔ ضلع الیکشن آفیسر جموں کے حکم میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ بغیر کسی دستاویزات کے، تحصیلدار کسی کو بھی اس کے اطمینان پر رہائشی سرٹیفکیٹ جاری کریں گے، جس کا مطلب مطلق صوابدیدی اختیار ہے” ۔انہوں نے پھر کہا کہ ’’بی جے پی کا منصوبہ مقامی رائے دہندوں کی طاقت کو کمزور کرنا ہے، خاص طور پر جموں خطہ میں‘‘۔
شیوسینا
شیوسینا جموں و کشمیر یونٹ نے غیر مقامی لوگوں کے حق رائے دہی کے لیے صرف ایک سال کا معیار طے کرنے کے فیصلے کی سخت مذمت کی ہے۔ پارٹی کے ریاستی سربراہ منیش ساہنی نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کے مستقبل اور حکومت کا فیصلہ کرنے کا حق مقامی لوگوں کو ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ہم پاکستانی مقبوضہ کشمیر،والمیکی اور گورکھا برادری کو ووٹنگ کا حق دینے کا خیرمقدم کرتے ہیں لیکن جموں و کشمیر میں صرف ایک سال سے رہنے والے غیر مقامی لوگوں کو ووٹ کا حق دینے کے فیصلے کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ ساہنی نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن نے یہ فیصلہ پہلے لیا ہوتا، جب حد بندی کمیشن جموں و کشمیر میں سیٹوں کا فیصلہ کر رہا تھا، تو جموں میں اسمبلی سیٹوں کے ساتھ انصاف کیا جاتا۔ساہنی نے کہا کہ اس ڈومیسائل سند کا کیا ہوگا جو مقامی لوگوں نے مہینوں لمبی قطاروں میں کھڑے رہنے کے بعد بنوایا تھا، وہ آج صرف کچرا بن گئے ہیں۔ساہنی نے انتباہی لہجے میں کہا کہ تمام اپوزیشن پارٹیاں اس مسئلہ پر متحد ہیں اور جلد ہی ایک بڑی عوامی تحریک دیکھنے کو ملے گی۔
سنیل ڈمپل
دوسری طرف ایک سماجی اور سیاسی کارکن سنیل ڈمپل نے ووٹر لسٹوں میں باہر کے لوگوں کو شامل کرنے کے کسی بھی اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے حکم کے خلاف جانی پور روڈ پر احتجاجی مظاہرہ کیااور اس کو تغلقی فرمان سے تعبیر کرتے ہوئے جموںوکشمیر کی شناخت اور تمدن پر یلغار قرار دیا۔انہوںنے کہا کہ اس فیصلہ کیخلاف مزاحمت کی جائے گی اور اس کو کسی بھی قبول نہیں کیاجائے گا کیونکہ اس سے جموںوکشمیر کی ڈیموگرافی یکسر تبدیل ہوجائے گی۔