جموں//مرکزی وزارت داخلہ (ایم ایچ اے) نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر حد بندی کمیشن کا فیصلہ ختمی ہے اسے چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ یاد رہے کہ حد بندی کمیشن نے جموں و کشمیر کی از سرِ نو حد بندی کرنے بعد 90 اسمبلی حلقوں کو تشکیل دیا تھا، اور گزٹ میں اشاعت کے بعد اسے حتمی قرار دیا تھا۔
وزارتِ داخلہ نے یہ بات سری نگر کے ایک رہائشی حاجی عبدالغنی خان کی طرف سے ایڈوکیٹ سری رام کے ذریعے دائر کی گئی ایک عرضی کے جواب میں سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے ایک حلف نامے میں کہی ہے جس میں انہوں نے جموں و کشمیر میں حد بندی کی مشق کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھایا ہے۔
ایم ایچ اے کے حلف نامے میں کہا گیا کہ 2002 کا حد بندی ایکٹ کے مطابق، کمیشن کے احکامات گزٹ میں شائع ہونے اور نافذ ہونے کے بعد، ان کی درستگی یا ترمیم کو چیلنج کرنے کے لیے کوئی قانونی کارروائی شروع نہیں کی جا سکتی۔
حلف نامہ میں کہا گیا ہے کہ “حد بندی ایکٹ، 2002 کی دفعہ 10(2) حد بندی کمیشن کے احکامات کو چیلنج کرنے پر پابندی لگاتی ہے جب وہ گزٹ آف انڈیا میں شائع ہو جاتے ہیں”۔
عبدالغنی خان کی درخواست کو مسترد کرنے کی درخواست کرتے ہوئے، ایم ایچ اے کے حلف نامہ نے کہا کہ اگر موجودہ درخواست کی سماعت کی اجازت دی جاتی ہے، تو یہ ایک غیر معمولی صورتحال کا باعث بنے گی کیونکہ کمیشن کے احکامات بے اثر ہوں گے۔
ایم ایچ اے کے حلف نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے 2 ستمبر 2019 کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ چونکہ حد بندی کمیشن 2019 کے جموں کشمیر ری آرگنائزیشن ایکٹ کے تحت تشکیل دیا گیا ہے جسے 2002 کے حد بندی ایکٹ کے مطابق حد بندی کا عمل مکمل کرنے کیلیے کہا گیا ہے، جس سے اس کمیشن کی قانونی حیثیت پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا۔
مرکزی حکومت نے دلیل دی کہ 2019 کا ایکٹ جموں و کشمیر کی حد بندی کرنے کے لیے دو متبادل طریقہ کار فراہم کرتا ہے – پہلا، الیکشن کے ذریعے، اور دوسرا، حد بندی کمیشن کے ذریعے، اور کمیشن کے قیام میں کوئی قانونی رکاوٹ کی اجازت نہیں ہے۔ 2002 کی حد بندی کمیشن کی تحلیل کے بعد جموں و کشمیر میں حلقہ بندیوں کو دوبارہ ترتیب دینے کے لیے 2020 حد بندی کمیشن تشکیل دیا گیا تھا۔
سابقہ ریاست جموں و کشمیر کو جموں و کشمیر اور لداخ کے میں تقسیم کرنے پر عرضی گزار کے اعتراض کے بارے میں، وزارتِ داخلہ نے اس تقسیم کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے 2019 ایکٹ کی منظوری کے ذریعے توثیق کیا تھا اور اسے برقرار رکھا جاۓ گا۔
سپریم کورٹ اس کیس کی دوبارہ سماعت 29 ستمبر کو کرے گی۔ 30 اگست کو سپریم کورٹ نے عندالغنی خان کی عرضی کا بروقت جواب دینے میں ناکامی پر مرکز کو طلب کیا اور اسے ایسا کرنے کے لیے ایک ہفتہ کا وقت دیا۔ 13 مئی کو عدالت نے مرکز، جموں و کشمیر انتظامیہ اور الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کیا۔
حد بندی کمیشن مارچ 2020 میں قائم کیا گیا تھا اور اسے اپنی رپورٹ پیش کرنے میں دو سال سے کچھ زیادہ کا عرصہ لگا۔ پینل نے جموں و کشمیر کا بھی دورہ کیا۔ کمیشن میں پانچ لوک سبھا ممبران تھے جو ایسوسی ایٹ ممبر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔
سات بڑھی ہوئی نشستوں میں سے حد بندی کمیشن نے چھ جموں صوبہ اور ایک وادی کشمیر کے لیے مختص کی ہے۔
کمیشن نے جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں درج فہرست قبائل کے لیے نو نشستیں اور درج فہرست ذاتوں کے لیے سات نشستیں بھی محفوظ کی ہیں۔
حد بندی کمیشن کا فیصلہ حتمی، قانونی طور پر چیلنج نہیں کیا جا سکتا:مرکزی وزارت داخلہ