رئیس یاسین
آجکل اگر نظر دوڑائی جائے تو مسلمان امت اس وقت دنیا میں ہر لحاظ سے زبوں حالی کا سامنا کر رہے ہیں۔ مسلمان دنیاوی اعتبار سے بھی مصائب اور مشکلات کا سامنا کررہے ہیں اور اخلاقی لحاظ سے بھی۔ مسلمانوں نے ماضی میں دنیا پر حکومت کی تھی جو کہ تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ لیکن آج کا مسلمان جس کی حیثیت دنیا میں ایک مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں رہی۔مسلمانوں کی زبوں حالی کے اصل سبب کے بارے میں حضرت محمود حسنؒ(اسیر مالٹا) لکھتے ہیں: ’’ میں نے جہاں تک جیل کی تنہائیوں میں اس پر غور کیا کہ پوری دنیا میں مسلمان دینی اور دنیوی ہر حیثیت سے کیوں تباہ ہو رہے ہیں تو اس کے دو سبب معلوم ہوئے۔ ایک ان کا قرآن چھوڑ دینا، دوسرے آپس کے اختلافات اور خانہ جنگی۔ اس لئے میں وہیں سے یہ عزم لے کر آیا ہوں کہ اپنی باقی زندگی اس کام میں صرف کروں کہ قرآن کریم کو لفظاً اور معناً عام کیا جائے، بچوں کے لئے لفظی تعلیم ومکاتب بستی بستی میں قائم کیے جائیں، بڑوں کو عوامی درس قرآن کی صورت میں اس کے معانی سے روشناس کرایا جائے اور قرآنی تعلیمات پر عمل کے لیے آمادہ کیا جائے، اور مسلمانوں کے باہمی جنگ وجدال کو کسی قیمت پر برداشت نہ کیا جائے ‘‘۔ ہمارے دینی ادارے اور ہماری ملی تنظیمیں اسلام کے بجائے اپنے اپنے مسلکوں کی اشاعت کرتے ہیں۔ اپنے اپنے مسلکوں کو حق سمجھنا اور دوسرے مسلک پر کفر کے فتوی دینا، جو کہ سرا سر غلط چیز ہے، جس کی وجہ سے مسلمانوں میں آپس میں ایک دوسرے سے دور ہو رہے ہیں۔ فتویٰ سازی کی صنعت جس تیزی سے پھل پھول رہی ہے اور کافر قرار دینے میں ذرا بھی شرم و حیا کا مظاہرہ نہیں کرتا تو اس کی بنیاد کیا ہے؟ اس کی اجازت ان کو کہاں سے حاصل ہوگئی؟ ہر مسلک کے ماننے والے اپنے علماء کی تقلید میں دوسرے شخص پر کافر، مشرک، بدعتی اور منافق کے فتوے لگانے شروع کردئیے۔ جنت جہنم ہم نے یہی دنیا میں ہی تقسیم کر دئے ہیں۔گویا دین کے ٹھیکیدار بن گئے ہیں۔ المیہ تو یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں دین داروں کو آپس میں ایک دوسرے کا بغض اور حسد، لیکن اس کے برعکس دو بے دین جوانوں میں آپس میں محبت اور اخوت ہیں۔ اس سے بھی بڑ ھکر تشویش ناک بات یہ ہے کہ ہماری لڑائی صرف مسجد تک محدود ہے، مسجد میں فرقے ہیں لیکن مسجد کے باہر ہم لوگ تجارت ایک ساتھ کرتے ہیں، ملازمت ایک ساتھ کرتے ہیں، جب رشتہ کرنا ہوتا ہے وہاں پر یہ نہیں دیکھتےہیں کہ یہ نوجوان ہم فکر یا دین دار نوجوان ہے ،وہاں پر صرف مال و دولت دیکھتے ہیں۔ لیکن مسجدوں میں ایک دوسرے پر فتویٰ لگاتے ہیں ، ہمیں اپنے گناہوں پر پشیمان ہونا چاہیے تھا۔ کون غلط ہے کون سہی ،اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے قیامت کا دن رکھا ہے، وہاں ان چیزوں کا فیصلہ ہو گا۔ اس کے برعکس حرام کا ارتکاب وہ فرقہ بھی کرتا ہے اور یہ فرقہ بھی، سودی کاروبارکرتے ہیں جو کہ ایک غیر اسلامی کام ہے۔
کسی دوکان کےباہر نہیں لکھا ہے کہ یہ فلاح فرقہ کا دوکان ہے، لیکن مسجدیں ہم نے تقسیم کی ہیں ۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم میں فکری کمزوری ہے۔ ہم نے دین کو ٹھیک طرح نہیں سمجھا ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے:’’سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑ لو اور تفرقہ میں نہ پڑو‘‘ (سورۃ آل عمران) اللہ کی رسی سے مراد اس کا دین ہے، اور اس کو رسی سے اس لیے تعبیر کیا گیا ہے کہ یہی وہ رشتہ ہے جو ایک طرف اہل ایمان کا تعلق اللہ سے قائم کرتا ہے اور دوسری طرف تمام ایمان لانے والوں کو باہم ملا کر ایک جماعت بناتا ہے۔ اس رسی کو ’مضبوط پکڑنے‘کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کی نگاہ میں اصل اہمیت ’’دین‘‘ کی ہو، اسی سے ان کو دلچسپی ہو، اسی کی خدمت کے لئے آپس میں تعاون کرتے رہیں۔ جہاں دین کی اساسی تعلیمات اور اس کی اقامت کے نصیب العین سے مسلمان ہٹے اور ان کی توجہات اور دلچسپیاں جزئیاب و فروع کی طرف منعطف ہوئیں، پھر ان میں لازماً وہی تفرقہ واختلاف رونما ہو جائے گا جو اس سے پہلے انبیاء کرام ؑ کی اُمتوں کو ان کے اصل مقصد حیات سے منحرف کر کے دنیا اور آخرت کی رسوائیوں میں مبتلا کر چکا ہے۔ ہم اس وقت آپسی اختلاف میں گم ہو چکے ہیں، ہمارے مساجد جو کہ اصلاح کے لئے کام میں آنے چاہیے لیکن مسجدوں میں صرف ایک مسلمان دوسرے مسلمان پر زبان استعمال کرتا ہے۔
ان فتنوں سے بچنے کے لئے ضروری ہیں کہ ہمیں اپنے حقیقی مقصد کو سمجھنا ہے ۔ نبی کریم ؐ نے کیا رہنمائی فرمائی، جب یہ فتنہ رونما ہو جائے تو کیا کرنا چاہئے۔
وقت کی اہم ضرورت یہ ہے کہ سوسائٹی کے اعلی ترین طبقات اور معاشرے کے ذہین ترین عناصر کے فکر و نظر میں انقلاب برپا کر دیا جائے۔ انہیں مادیت والحاد کے اندھیروں سے نکال کر ایمان و یقین کی روشنی میں لے آئے اور خدا پرستی و خود شناسی کی دولت سے مالا مال کردے۔ علماء میں اتحاد ہو جائے وہ اپنے فرقے کو ایک طرف چھوڑ کر امت کا غم میں شامل ہو جائے۔ پہلے ایسے ذہین اور باصلاحیت نوجوانوں کو تلاش کرنا ہوگا جن میں علم کی ایک شدید پیاس فطری طور موجود ہو، جن کے قلوب مضطرب اور روحیں بے چین ہوں، جن کو خود اپنے اندر یہ احساس موجود نظر آئے کہ اصل حقیقت حواس کی سرحدوں سے بہت پرے واقع ہے اور جن میں حقیقت کی تلاش و دریافت کا داعیہ اتنا شدید ہو جائے کہ وہ اس کے لئے زندگیاں وقف کرنے کو تیار ہوں اور آرام وآسائش کے حصول اور خوشنما مستقبل(CAREERS) کی تعمیر سے یکسر بے نیاز ہو جائیں۔ ذہین اور باصلاحیت نوجوانوں میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس حدیث مبارک کو انکا لائحہ عمل بنایا جائے کہ ’’تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جو قرآن سیکھے اور سکھاتے ہیں‘‘، ان کے سامنے اس اعلیٰ نصب العین کے لئے کام کرنے کا جذبہ احساس پیدا کیا جائے۔ جب امت حامل قرآن بن جائے گی تو اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں رہے گی۔سید مودودیؒ نے لکھا ہے ،’’ ہم اس امت کے معالج نہیں تیماردار ہیں، معالج کسی وقت بھی علاج چھوڑ سکتا ہے مگر تیماردار تیمارداری نہیں‘‘۔گویا کہ ہمیں اس امت کے لئے ہر وقت کام کرنا ہے، ایک مسلمان ہو کر اور فرقہ واریت سے اجتناب کرنا ہے، دوسرا یہ کہ قرآن اکیڈمیوں کا قیام عمل میں لایا جائے جو ایک طرف علوم قرآنی کی عمومی نشرواشاعت کا بندوبست کرے تاکہ قرآن کا نور عام ہو اور اس کی عظمت لوگوں پر آشکار ہو ، دوسری طرف ایسے نوجوانوں کی تعلیم کا اہتمام کرے جو بیک وقت علوم جدیدہ سے بھی بہرہ ور ہوں اور قرآن کے علم و حکمت سے بھی براہ راست آگاہ ہوں تاکہ متذکرہ بالا علمی کاموں کے لیے راہ ہموار ہو سکے۔ اس لئے ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارا کوئی( Contribution) نہیں ہے، اسلام کے حوالے سے، کیونکہ ہم نے اپنے نصب العین کو نہیں سمجھا ہے۔ جو پیغمبر اسلام کا مشن تھا ہم اس مشن سے بہت دور ہیں۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ ہم نے قرآن پاک کی تعلیمات کو چھوڑا ہے۔ ضرورت ہے کہ مسلمانوں کو اپنا مقصد یاد دلایا جائے۔ اسے میں ہماری دنیاوی کامیابی ہیں اور آخرت کی نجات بھی۔ ہر <[email protected]>