سرینگر// بی جے پی نے افسپا پر اپنے سخت موقف کا ایک بار پھر اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوج کو حاصل خصوصی اختیارات کا اطلاق از راہ تفریح کیلئے نہیں کیا گیا ہے بلکہ ریاستوں کو چاہیے کہ وہ اسے ہٹانے کیلئے بہتر صورتحال کا ماحول پیدا کریں۔جموں و کشمیر کیلئے پارٹی کے انچارج اورمرکزی جنرل سیکریٹری رام مادھو نے کہا کہ مزاحمتی جماعتوں کا چنائو بائیکاٹ کوئی نئی بات نہیں ۔صرف ایک روز قبل ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی طرف سے ممبئی میں جموں کشمیر کے کچھ علاقوں سے افسپا کی مرحلہ وار منسوخی کے مطالبے سے نا اتفاقی ظاہر کرتے ہوئے بھاجپا کے جنرل سیکریٹری رام مادھو نے کہا کہ اگر کچھ ریاستوں میں اس قانون کا اطلاق عمل میں لایا گیا ہے تو یہ خوشی کیلئے نہیں لایا گیا۔انہوں نے کہا کہ ان ریاستوں میں اس قانون کو اس لئے لاگو کیا گیا ہے کیونکہ وہاں پر اسکی ضرورت تھی۔رام مادھو نے کہا’’ افسپا اورا س طرح کے قوانین کی ضرورت جب ان ریاستوں میںختم ہوگی تو ایسے قوانین کو وہاں سے منسوخ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاآیا وہ جموں کشمیر ہو یا شمالی مشرق کی ریاستیں، جب صورتحال بہتر ہوگی تو از خود یہ قوانین بھی ختم ہونگے۔ انہوں نے ریاستوں پر زور دیا کہ وہ امن و قانون اور سلامتی کو بہتر بنائے تاکہ اس بات کی یقین دہانی ہوجائے کہ ان ریاستوں میں افسپا کی ضرورت نہیں ہے۔ پارلیمانی نشستوں کے ضمنی انتخابات کے حوالے سے بی جے پی کے ریاستی لیڈروں کے ساتھ میٹنگ کے بعد رام مادھو نے کہا کہ دونوں حکمران جماعتیں بات چیت کے ذریعے فیصلہ کریں کہ بھاجپا انتخابات میں شرکت کرے گی یا نہیں۔ مزاحمتی جماعتوں کی بائیکاٹ کال کو کوئی نئی بات نہ قرار دیتے ہوئے رام مادھو نے دعویٰ کیا کہ لوگوں کی بڑی تعداد رائے دہندگی میں شرکت کرے گی۔ انہو ں نے کہا کہ ماضی میں بھی مزاحمتی خیمے نے بائیکاٹ کی کال دی تھی اور اب وہی پھر سے کیا ہے۔نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے بھی لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ رائے دہندگی میں بڑی تعداد میں شرکت کریں۔ انہوں نے کہا کہ لوگ کسی بھی امیدوار کو اپنا ووٹ دیں جس کو وہ چاہتے ہوں کیونکہ جمہوریت ایک جشن ہے اور ہر کوئی اس جشن میں شرکت کرے۔ جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ کیا بی جے پی پارلیمانی انتخابات میں شرکت کرنے جارہی ہے تو انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں پی ڈی پی کے ساتھ باہمی مشاورت کے بعد ہی کوئی فیصلہ لیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ وہ پی ڈی پی کے ساتھ گفت و شنید کریں گے۔رام مادھو نے کہا کہ پی ڈی پی ریاست میں بھاجپا کے ریاستی صدر کے ساتھ بات کرے گی اور اس کے بعد عنقریب ہی بی جے پی کی مرکزی کمان اس سلسلے میں کوئی فیصلہ لے گا ۔ رام مادھو نے کہا کہ دونوں جماعتیں پرامید ہیں کہ وہ کوئی راستہ تلاش کریں گی۔